طالبان کے کتنے گروہ ہیں؟ کیسے وجود میں آئے؟ رعایت اللہ فاروقی

رعایت فاروقی جب طالبان لفظ استعمال ہو تو یہ بات ذہن میں رہے کہ اس نام سے تین الگ الگ گروہ ہیں جو یہ ہیں۔\n\n(01) افغان طالبان\nـــــــــــــــــــ\nیہ افغانستان میں خانہ جنگی کے نتیجے میں وجود میں آئے تھے اور ان کی خالق محترمہ بینظیر بھٹو ہیں۔ محترمہ نے انہیں سابق وزیر داخلہ جنرل نصیر اللہ بابر کی مدد سے 1994ء میں بنایا تھا جو 1975ء میں افغان مجاہدین کے استاذ اول رہے تھے۔ وہ ایسا وقت تھا کہ افغانستان میں درجنوں وار لاڈز نے قوم کو یرغمال بنا رکھا تھا۔ ایک ہی صوبے میں کئی کئی کمانڈر اپنی حکومتیں بنا کر بیٹھے ہوئے تھے اور آپس میں جھڑپوں میں مشغول رہتے تھے۔ جن میں سے صرف بڑے دو گروپ حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کی لڑائیاں میڈیا میں چھائی رہتی تھیں کیونکہ یہ لڑائیاں دارالحکومت کابل میں ہوتی رہیں۔ طالبان نے شمال کو چھوڑ کر باقی 95 فیصد افغانستان سے ان کمانڈروں کا صفایا کیا اور یہ تمام علاقے اسلحے سے پاک کر دیے۔\n\n(02) مقامی طالبان\nــــــــــــــــــــ\nیہ ویزرستان میں مشرف کے فوج بھیجنے کے نتیجے میں وجود میں آئے تھے اور افغان طالبان کے حمایتی تھے۔ ان کی پاکستان آرمی سے وزیرستان میں زبردست جھڑپیں ہوئیں اور بالآخر امن معاہدے کے نتیجے میں انہوں نے فوج کی وہاں موجودگی قبول کر لی اور افغانستان میں جنگی کارویوں تک محدود ہوگئے۔ یہ شمالی وزیرستان میں آپریٹ کرتے تھے اور ان کا پہلا کمانڈر نیک محمد تھا جسے پاکستان آرمی کے ساتھ امن معاہدے پر امریکہ نے ڈرون حملے میں مار دیا تھا۔ نیک محمد کے بعد ملا نذیر ان کا کمانڈر بنا جو 2013ء میں ڈرون حملے میں مارا گیا۔ اس وقت ان کا کمانڈر صلاح الدین ہے لیکن یہ گروپ اب کہیں نظر نہیں آتا اندازہ یہی ہے کہ یہ افغانستان میں افغان طالبان کے شانہ بشانہ لڑ رہا ہے۔ اس گروپ نے فاٹا سے نکل کر پاکستان کے شہروں میں کوئی دہشت گردی نہیں کی۔ فاٹا میں امریکہ کی جانب سے ہونے والے ڈرون حملوں میں سے 85 فیصد اسی گروپ پر ہوئے کیونکہ یہ پاکستان کا وفادار اور ٹی ٹی پی کے لئے خطرہ تھا۔ ہمارے بعض نابالغ تجزیہ کار ٹی ٹی پی کو افغان طالبان سے اسی گروپ کے دھوکے میں جوڑتے ہیں۔ وزیرستان میں افغان طالبان کا حمایتی صرف یہی گروپ رہا ہے اور یہ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث نہیں رہا۔ امریکی ہمیشہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کا مطالبہ کرتے تھے جو ان کا گڑھ تھا اور پاکستان کا جواب یہی ہوتا تھا کہ جب اس گروپ سے ہمیں کوئی نقصان نہیں ہے تو ہم آپریشن کیوں کریں ؟\n\n(03) ٹی ٹی پی\nـــــــــــــــ\nیہ تنظیم جنوبی ویزرستان میں لال مسجد آپریشن کے رد عمل میں 2007ء میں سامنے آئی اور اس میں آگے چل کر کئی گروپ بنے جو ایک ہی امیر کے تحت کام کرتے رہے۔ یہ خالص اینٹی پاکستان تنظیم تھی اور اس کے تمام گروپس کو امریکہ اور بھارت کی سرپرستی حاصل رہی۔ ہماری مساجد اور قریہ و بازار میں تباہی یہی تنظیم مچاتی رہی۔ بیت اللہ محسود ان کا پہلا سربراہ تھا جبکہ آگے چل کر حکیم اللہ محسود اور فضل اللہ اس تنظیم کے سربراہ بنے۔ اس تنظیم کے اہم کمانڈروں میں قاری حسین، ولی الرحمن, عصمت اللہ معاویہ، عدنان رشید، عمر خالد اور خان سید سجنا شامل ہیں۔ ضرب عضب نے اس گروپ کو بری طرح نقصان سے دوچار کیا ہے اور اس کا بچا کھچا حصہ اب افغان حکومت کی پناہ میں افغانستان میں موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر حملے کے بعد پاکستان افغان طالبان سے نہیں بلکہ افغان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس گروپ کو دہشت گردی سے روکے۔ اگر ان کا افغان طالبان سے کوئی تعلق ہوتا تو پاکستان ان سے بات کرتا جو اس لئے بھی آسان ہوتی کہ افغان طالبان سے پاکستان کے رابطے اس درجے کے ہیں کہ خود امریکہ پاکستان کی مدد سے ان سے مذاکرات کے لیے پیش رفت چاہتا ہے۔

Comments

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی سوشل میڈیا کا جانا پہچانا نام ہیں۔ 1990ء سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نصف درجن روزناموں میں کالم لکھے۔ دنیا ٹی وی کے پروگرام “حسبِ حال” سے بطور ریسرچر بھی وابستہ رہے۔ سیاست اور دفاعی امور پر ان کے تجزیے دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں