حملے کب ختم ہوں گے؟ رعایت اللہ فاروقی

رعایت فاروقی کسی نے پوچھا ہے کہ سانحہ کوئٹہ پر آپ نے کچھ نہیں لکھا اس کی وجہ کیا ہے؟ سوال یہ ہے کہ جب لکھنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہو تو بندہ کیوں لکھے؟ لکھنے کا مقصد قاری کے شعور کو غذا فراہم کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ قوت پکڑ کر بہتر انداز سے سوچنا شروع کرے لیکن یہاں تو صورتحال یہ ہے کہ جنہیں تین سال سے عسکریت سمجھا رہا ہوں وہ آج بھی وہی گھسی پٹی باتیں لے کر بیٹھے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ دھماکوں پر عورتوں کی طرح طعنے دینا ہی ایک بہترین رد عمل ہو سکتا ہے۔ کوئی حکومت کو طعنے دے رہا ہے تو کوئی فوج پر طنز کسے جا رہا ہے اور خوش ہے کہ اس سانحے پر اپنی قومی ذمہ داریاں پوری کردیں۔ میرے بھائی ! پہلے طے کر لیجیے کہ اپنے شعور کا کوئی علاج کرنا ہے یا نہیں ؟ جس شعوری سطح کے ساتھ آپ اس وقت کھڑے ہیں اس سے تو گھن ہی آتی ہے۔ جب آپ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے ہی عاری ہیں اور یہ ماننے کے لیے بھی آمادہ نہیں ہیں کہ آپ جہالت کی بدترین سطح پر کھڑے ہیں تو علاج کیسے ہو سکتا ہے؟ میرے لڑکپن اور جوانی میں اگر کوئی خوبی پائی جاتی تھی تو بس یہ کہ مجھ کو اپنی جہالت کا احساس بہت شدت کے ساتھ تھا اور اس احساس کا ہی نتیجہ ہے کہ اس جہالت کو ختم کرنے کے لیے بے انتہاء محنت کرنی پڑی۔ کتابیں اتنی پڑھیں کہ یاد بھی نہ رہا کہ کون سی پڑھ ڈالی اور کون سی رہ گئی۔ کئی بار ایسا ہوا کہ کتاب خرید کر لایا اور مطالعہ شروع کیا تو دس بارہ صفحات کے بعد یاد آنے لگا کہ یہ تو کسی زمانے میں پڑھ رکھی ہے۔ مجھ میں اور آج کے نوجوان میں اگر کچھ فرق ہے تو یہ کہ مجھ کو اپنی جہالت کا بہت زیادہ احساس تھا اور آج کا نوجوان خود کو ارسطو سے کم سمجھتا ہی نہیں۔\n\nمیرے بچو ! آپ بیماری کا ہی انکار کروگے تو صحت مند کیسے ہوگے ؟ میں ایک مولوی ہوں یار ! وہی مولوی جسے جہالت کے طعنے دینا آپ کے کلچر کا حصہ بن چکا۔ سکول، کالج اور یونورسٹی کی تعلیم ایک دن کے لئے بھی حاصل نہیں کی۔ لیکن پھر بی سماجی ایشوز ہوں خواہ انٹرنیشنل ریلیشنز کونسا موضوع ہے جس پر اپنی ٹھوس رائے نہ رکھتا ہوں ؟ ہمارے مدارس میں تو یہ موضوعات پڑھائے ہی نہیں جاتے۔ کالج اور یونیورسٹی میں پڑھائے جاتے ہیں اور وہاں میں نے پڑھا ہی نہیں تو پھر یہ سب کہاں سے آیا ؟ مطالعے سے میرے بچو ! مطالعے سے ! اور کتنی شرم کی بات ہے کہ ایک مولوی کالجز اور یونیورسٹیوں کے بچوں کو یہ دعوت دے دے کر تھک رہا ہے کہ خدا کا واسطہ اپنا شعور بہتر کیجیے اور مطالعے کی عادت ڈالیے۔\n\nاب انتہائی آسان لفظوں میں آپ کو حالیہ صورتحال پر اپنی رائے دینے جا رہاہوں۔ سمجھ آجائے تو قبول کر لیجیے ورنہ کرتے رہیے وہی جو آپ اپنی موجودہ ذہنی حالت میں کر سکتے ہیں۔ کچھ کڑیاں دے رہا ہوں، انہیں جوڑ لیجیے !\n\n(01) افغانستان میں جب طالبان اقتدار میں آئے تو یہ بد امنی کے نتیجے میں ہی آئے تھے اور انہیں اس کا اچھی طرح احساس تھا چنانچہ انہوں نے پہلا کام ہی یہ کیا کہ اپنی عملداری میں موجود ہر انسان کو غیر مسلح کر دیا، حتیٰ کہ جلال الدین حقانی کو بھی نہیں بخشا، ان کا لاکھوں ٹن اسلحہ بھی ضبط کر لیا۔\n\n(02) کشمیری عسکریت پسند تنظیموں کے ٹریننگ سینٹر بھی بند کر دیے اور ان تنظیموں کو اپنے سینٹر پاکستان منتقل کرنے پڑے۔\n\n(03) اس اقدام سے قبل میران شاہ بازار میں کلاشنکوف کی قیمت صرف 7000 روپے تھی کیونکہ افغانستان سے روز اسلحہ اس مارکیٹ میں آتا تھا جس کی خوب فراوانی تھی۔ اس اقدام کے بعد اسلحے کی آمد بند ہوئی تو صرف چند ماہ میں کلاشنکوف کی قیمت ایک لاکھ بیس ہزار اور پھر ایک لاکھ 75 ہزار تک پہنچ گئی اور وہ بھی تب ہی دستیاب ہوتی جب کوئی مقامی اپنی کلاشنکوف بیچنے کے لیے مارکیٹ میں لے آتا۔\n\n(04) نائن الیون کے بعد امریکہ، بھارت اور افغان حکومت کی سرپرستی میں ٹی ٹی پی اور بلوچ عسکریت پسند سامنے آگئے جس سے ہمارے ہاں تباہی شروع ہوئی۔\n\n(05) ضرب عضب ایک کامیاب آپریشن ہے، اس کے نتیجے میں پاکستانی علاقوں سے عسکریت پسندوں کا خاتمہ ہوچکا ہے۔\n\n(06) پاکستانی عسکریت پسندوں میں جو بچ گئے ہیں وہ افغانستان میں امریکہ، بھارت اور افغان حکومت کے مہمان ہیں اور وہیں سے پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔\n\n(07) پاکستان کی فوج اگر 20 لاکھ بھی ہوجائے تب بھی یہ حملے ختم نہیں ہوں گے۔ حملے ختم ہونے کی ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ افغانستان میں بھارت نواز نہیں بلکہ پاکستان نواز حکومت ہو جو دہشت گردوں کو پناہ اور سہولت فراہم نہ کرے۔\n\n(08) اندازہ ہے کہ اگلے دو سے تین سال میں افغان طالبان وہاں اقتدار میں ہوں گے اور افغانستان میں ایک بار پھر وہ سب کو غیر مسلح کریں گے تب جا کر ہماری جان چھوٹے گی۔ اس وقت تک جو حملے ہوں گے انہیں سوچ سمجھ کر برداشت کریں اور ہر حملے کے بعد اپنے اداروں کو گالیاں دینا بند کیجیے !

Comments

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی سوشل میڈیا کا جانا پہچانا نام ہیں۔ 1990ء سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نصف درجن روزناموں میں کالم لکھے۔ دنیا ٹی وی کے پروگرام "حسبِ حال" سے بطور ریسرچر بھی وابستہ رہے۔ سیاست اور دفاعی امور پر ان کے تجزیے دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں