میں نے اس سے مانگا تھا : عشوا رانا

میں نے اس سے مانگا تھا...مجھے امید تھی کہ مجھے ملے گا...پر مجھے نہیں ملا..\nمیں بہت روئی...بہت شکایتیں کی...پر خالی ہاتھ رہی...\nاور پھر میں نے صبر کر لیا...شکر کا کلمہ پڑھنے کی کوشش کی پر ادا نہ ہوا...\nمجھے لگا وہ مجھ سے روٹھ گیا ہے..اب میں اسے نظر نہیِ آتی..وہ میری نہیں سنتا..\nمیں بھی روز زندگی کے دن گزارتی رہی اس سے روٹھ کر ... یو نہی ماہ و سال بیت گئے...\nاور پھر میرے سامنے وہ چیزیں آئیں جن کی میں نے خواہش کی تھی..\nمیں نے جو مانگا تھا..وہ اب کسی اور کا تھا ..پر اچھا نہ تھا.\nاور مجھے محسوس ہوا کہ میں بہتر حال میں تھی...\nمیں واقعی بہتر تھی..میں نے کبھی غور نہیں کیا ..\nاور تب یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ مجھے تو وہ سب ملا جو "میرے لیے "تھا..وہ نہیں جس کے پیچھے میں نے بھاگنا چاہا...\nاس نے تب بھی میرا بھلا چاہا جب میں نے اس کے بارے میں برا سوچا..\nوہ تب بھی نہیں روٹھا جب میں روٹھی رہی..\nمجھے اب بھی رونا آیا...میں بہت روئی پر اب کی بار میں نے اسے منانا چاہا...اسے چاہنا چا ہا...اور اس نے راستہ صاف کر دیا..\nاور پتہ ہے وہ اس کون ہے...\nمجھے لگتا ہے وہ بس میرا ہے...پر وہ سبکے ساتھ اچھا ہے..سب کا خیال رکھتا ہے..اسکا بھی جو اسکا خیال نہیں کرتے..\n\nمیرا " رب" بڑا رحیم ہے\nاے ابن آدم \nاک تیری چاہت ہے\nاک میری چاہت ہے..\nاگر تو وہ کرے جو میری چاہت ہے \nمیں تجھے دوں گا وہ جو تیری چاہت ہے..\nپر اگر تو اسکے خلاف ہے جو میری چاہت ہے \nتو میں تھکادوں گا اس کے لیے جو تیری چاہت ہے\nاور ہو گا وہی جو میری چاہت ہے..(مفہوم)

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!