آئی فِیل سیف ایٹ ہوم - عاطف الیاس

عاطف الیاس (I feel safe at home!)\nلیکن ذرا ٹھہریے، ایک نظر کرہ ارض پر ڈالتے ہیں، مشرق سے شروع کرتے ہیں:\n\nبرما میں پچھلے سالوں میں جس طرح مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی وہ انسانیت کے خلاف بدترین جرائم ہونے کے باوجود، انھیں روکنے کے لیے کوئی پیش بندی نہیں کی گئی بلکہ اپنے مفاد کے لیے اسے نظر انداز کیا گیا۔ الٹا انھیں دنوں میں برما کے فضائی اور بری چیفس پاکستان کا دورہ کرکے گئے لیکن کسی کو آواز اُٹھانے کی ہمت نہیں ہوئی۔ ان کے لیے صرف ریڈ کارپٹس ہی بچھائے گئے۔\n\nتھوڑا آگے چلیے بنگلہ دیش میں جابر حکمران حسینہ واجد انڈیا کو خوش کرنے اور پرانے بدلے چکانے کے لیے، ہر اس آواز کو دبا دینا چاہتی ہے جو اسلام کے لیے بلند ہو۔ اس لیے وہاں اسلام پسندوں کی زندگی ہر وقت خطرے میں ہے۔\n\nہندوستان میں مسلمان شودروں سے بھی کمتر ہیں، اور ان کی جان، مال اور عزت کی قیمت اتنی ہی ہے جتنی کسی کیڑے مکوڑے کی ہوتی ہے لیکن پھر بھی سیکولر اور شائننگ انڈیا کا کچھ نہیں بگڑتا۔ کشمیر میں انڈین فوج لوگوں کو قتل کر رہی ہے، اندھا بنا رہی ہے، گرفتار کر کر کے جیلوں میں ڈال رہی ہے اور ہم اقوام متحدہ کے منتظر ہیں۔\n\nاس سے اوپر دیکھیے تو روس میں اسلام کا نام لینا بھی جرم ہے، اور اس سے نیچے وسطی ایشائی ریاستوں میں روس کی سرپرستی میں حکمرانوں نے اسلام کے نام لیواؤں کا جینا حرام کیا ہوا ہے، ہزاروں کی تعداد میں اسلام پسند داعی جیلوں میں بند ہیں، جن کا جرم صرف اتنا ہے کہ وہ اسلام کی حکمرانی چاہتے ہیں۔\n\nاس کے ساتھ ہی دیکھیے تو چین کے صوبے سنکیانگ میں مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک کیا جارہا ہے، اس کا عشر عشیر بھی دنیا کے سامنے نہیں آتا، بس اتنا سمجھ لیجیے کہ نہ داڑھی رکھنے کی اجازت ہے اور نہ نماز روزے کی۔ باقی آپ خود سمجھ دار ہیں۔\n\nنیچے اتریے تو افغانستان پر امریکہ قابض ہے، جس کے قبضے کے نتیجے میں پندرہ لاکھ سے زیادہ لوگ مارے جاچکے ہیں اور جو لوگ اس کے قبضے کے خلاف لڑے، پہلے مجاہد اور اب دہشت گرد بن چکے ہیں۔ (چو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے)۔\n\nذرا اور نیچے اتریے تو پاکستان میں امریکی پشت پناہی سے چلنے والی تحریک طالبان پاکستان، ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک، بلیک واٹر اور دوسری دہشت گرد تنظیموں کی وجہ سے ایک لاکھ سے زیادہ لوگ مارے جاچکے ہیں۔ لیکن اگر پھر بھی کوئی امریکی تھرڈ کلاس آفیسر پاکستان آجائے تو سب سر جھکائے حاضر ہو جاتے ہیں۔\n\nاس کے ساتھ ہی ایران موجود ہے جہاں امام خمینی نے مرگ بر امریکہ اور مرگ بر اسرائیل کے نام پر مذہبی حکومت قائم کی تھی۔ لیکن آج تک اس کی طرف سے ایک بھی گولی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نہیں چلائی جاسکی۔ گویا دکھانے کے دانت اور ہیں، کھانے کے اور۔ لیکن مسلمانوں میں سنی شیعہ تفریق بڑھانے میں اس کے حکمران پیش پیش ہیں۔ اور شام ، عراق اور یمن میں امریکی پلان کے آگے بڑھاتے ہوئے سنی شیعہ تفریق کی آڑ میں مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں۔\n\nآگے چلیے تو مسلمانوں کی خلافت کا آخری مرکز ترکی ہے لیکن آج اتاترک جیسے حکمرانوں نے اسے طوائف کا عکس بنا دیا جسے اپنا سب کچھ لٹا کے بھی کچھ ہاتھ نہ آیا۔ سیکولرازم آج بھی اس کے اسلامی تشخص پر حملہ آور ہے اور اسلام پسندوں کو راستے سے ہٹانا چاہتا ہے لیکن راوی چین ہی چین لکھتا ہے کیونکہ سر پر سکارف لینے کی آزادی ہے۔\n\nذرا نیچے جھانکیے تو پورا مڈل ایسٹ مسلمانوں کے خون سے رنگین ہے۔\n\nشام میں ظالم بشار الاسد کے ہاتھوں اب تک پانچ لاکھ سے زیادہ مسلمان مارے جا چکے ہیں۔ اور جو لوگ اس کے ظلم کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں انھیں دہشت گرد بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئیوں کے عین مطابق شام خلافت کا مرکز بننے کے لیے بےتاب ہے لیکن کفار اور ان کے ایجنٹ حکمرانوں کی مدد سے ہر ہتھکنڈا استعمال کرکے اسے روکا جا رہا ہے۔ امریکہ کے بعد روس بھی خطے میں اتر آیا ہے اور مسلمانوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگین کر رہا ہے۔ دن رات بمباری کرکے بچوں اور عورتوں کو مارا جارہا ہے۔ حلب بے حال ہے لیکن۔\n\nعراق امریکی موجودگی اور اس کے ایجنٹ حکمرانوں کی وجہ سے سنی شیعہ تفریق کا مرکز بن چکا ہے۔ اور یہیں نام نہاد خلافت کا اعلان کرنے والی تنظیم داعش اپنے اعمال سے خلافت کو بدنام کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی پلان کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے، جس کا ایک فریق ایران اور حزب اللہ ہیں اور دوسرا فریق داعش ہے۔\n\nاس کے نیچے سعودی عرب ہے جہاں مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات واقع ہیں۔ لیکن آل سعود اپنے رویے کی وجہ سے تنہا کھڑے ہیں۔ جنھیں قیادت کرنی چاہیے تھی، وہ آلہ کار ہیں، اسلامی تحریکوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب خود گھیرے میں ہیں، پراکسی جنگوں میں مسلمانوں کا خون بہانے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا۔\n\nاس کے ساتھ ہی یمن ہے جو آج کل دو سپر پاورز کی لڑائی کا مرکز بنا ہوا ہے، جس کے لیے مسلمانوں کو آپس میں لڑوا کر ایک دوسرے کا خون بہایا جا رہا ہے اور انھیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔\n\nیہیں کہیں ایک خنجر کی طرح اسرائیل مسلمانوں کے سینے میں پیوست ہے جہاں مسلمانوں کا خون پانی سے بھی زیادہ سستا ہے۔ اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کی بےحرمتی معمول کی بات ہے۔\n\nمزید نیچے جھانکیے تو افریقہ بڑی طاقتوں کی لڑائی کا مرکز ہے لیکن نشانہ صرف مسلمان ہیں۔ اور وہ بھی ایک دوسرے کے ہاتھوں۔ یہیں کہیں بوکو حرام جیسی تنظیمیں ردعمل کے نام پر مسلمانوں کا خون بہا رہی ہیں۔\n\nاوپر یورپ میں میں آہستہ آہستہ اسلام کو ایک ڈراؤنا خواب بنا کر پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کی زندگی مشکل سے مشکل بنائی جا رہی ہے۔ داعش کے نام پر اسلام کو ایک دہشت گرد مذہب کی صورت میں پیش کیا جارہا ہے جس کے نتیجے میں مظلوم مسلمانوں کی مدد سے ہاتھ کھینچنے کے لیے بھی رائے عامہ ہموار کی جا رہی ہے۔\n\nبحر اوقیانوس پار کر جائیے تو امریکہ میں مسلمانوں کو ویسے ہی تیسرے درجے کے شہری کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور یہیں سے پوری دنیا کے اندر عالم اسلام میں بےچینی، آگ بڑھکانے، قتل و غارت کے منصوبے بنائے جاتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے لوگ مسلمانوں کو فساد کی جڑ قرار دے رہے ہیں۔\n\nالغرض پوری دنیا کا نقشہ اُٹھا کر دیکھ لیجیے، مر رہا ہے تو مسلمان، لٹ رہا ہے تو مسلمان، جل رہا ہے تو مسلمان، کٹ رہا ہے تو مسلمان۔ ہر جگہ ذلت اور رسوائی ہم پر مسلط ہے۔ دنیا میں مسلمان کی جان، مال اور عزت سب سے زیادہ سستی ہے۔\nلیکن وہی مسلمان دنیا میں جہاں بھی ہے، عملی تصویر اس بات کی ہے کہ مجھے کیا ! کیونکہ،\nآئی فِیل سیف ایٹ ہوم !

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!