پاکستان کی سفارتی تنہائی، حقیقت کیا ہے؟ ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

عاصم اللہ بخش ان دنوں پاکستان کی سفارتی تنہائی کا کافی چرچا ہے. بھارت اور پاکستان میں شدید اختلافات کے موجودہ سیزن میں غالبا یہی ایک بات ہے جس پر ہر دو اطراف اتفاق دیکھنے میں آ رہا ہے. بلکہ کبھی تو یہ معاملہ ایک کورس کا سا لگنے لگتا ہے. ادھر سے مودی صاحب تان لگاتے ہیں کہ تنہا کر رہے ہیں، تنہا کر دیں گے. پھر یہاں سے صدا بلند ہوتی ہے ہم تنہا ہو رہے ہیں، ہم تنہا ہو گئے.\nاب یہ تنہائی ہے کہ نہیں اور ہے تو اس کی اصل حقیقت کیا ہو سکتی ہے اس پر کوئی بات نہیں ہوتی، واویلا البتہ کافی رہتا ہے.\nاگر آپ بور ہونے پر آمادہ ہیں تو ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں کہ اس تنہائی کے پس منظر عوامل کیا ہو سکتے ہیں اور ان پر کس قدر اظہار تشویش مناسب رہے گا.\nاگر مطالعاتی نگاہ سے دیکھا جائے تو علاقائی و عالمی تناظر میں اس وقت دو رجحانات ایسے ہیں جو بین الاقوامی تعلقات میں Balancing & Realignment کو تحریک دے رہے ہیں.\nان میں پہلا، افغانستان میں جاری جنگ سے امریکہ کا انخلاء اور اس کی جگہ وہاں کسی قائم مقام کا تعین اور اینڈ گیم میں اس کا رول ہے.\nدوسرا ... چین کا حیران کن معاشی ترقی کے بعد اب عالمی امور میں اپنی موجودگی اور اہمیت ہر اصرار جس سے مغرب، اور بالخصوص امریکہ کچھ خائف نظر آتے ہیں.\nاگر ہم گزرے ماہ و سال پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ پاکستان 90 کی پوری دہائی میں بھی لگ بھگ ایسی ہی صورتحال سے دوچار رہا. پہلی افغان جنگ کے خاتمہ کے بعد امریکہ نے اس کے جوہری پروگرام کو بنیاد بنا کر "مضبوط اتحادی" پاکستان کے خلاف پابندیاں عائد کرنا شروع کر دیں اور یوں اقتصادی، دفاعی اور باہمی تعاون کے تمام معاملات کو انتہائی کم ترین سطح پر دھکیل دیا. اب امریکہ کی سرد مہری تھی اور پاکستان. یونی پولر دنیا میں پاکستان کے پاس آپشنز نہ ہونے کے برابر تھیں تاہم پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کے دو اہم ترین ستونوں، سعودی عرب اور چین کی اعانت اور سفارتی مدد سے یہ کٹھن وقت گزار لیا. اس تمام وقت میں پاکستان نے اس بات کا خاص خیال رکھا کہ یورپ اور امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات کسی درجہ پر بھی معاندانہ نہ ہونے پائیں تاکہ وہ کسی لمحہ بھی ان کی ٹارگٹ لسٹ میں نہ آئے، جیسا کہ ہم نے عراق یا ایران کے ساتھ دیکھا. اور نتیجتاً دونوں ممالک کا جوہری پروگرام ختم ہو کر رہ گیا.\nاس وقت بھی حالات کچھ ایسے ہی ہیں. جیسا کہ تذکرہ ہؤا، افغان معرکہ اپنے اختتام پر ہے تاہم اس بار چند نئے فیکٹر اس صورتحال کو پیچیدہ بنانے کے لیے سامنے ہیں. اول یہ کہ چین کے بڑھتے ہوے اثر اور اپنے اور اسکے بیچ عالمی امور میں بڑھتے فاصلوں کی وجہ امریکہ کی خواہش ہے کہ بھارت کو خطہ میں پولیس میں کا رول دیا جائے. اس ضمن میں سن 2000 کے بعد بہت سا کام ہؤا ہے اور بھارت کو تجارتی، معاشی، دفاعی اور اسٹریٹیجک میدانوں میں امریکہ کی غیر معمولی مدد اور پشت پناہی حاصل رہی ہے. اس کی ایک ادنی سی مثال امریکہ کا بھارت کے ساتھ سول نیوکلیئر معاہدہ ہے. یہی نہیں بھارت کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی ممبرشپ دلوانے کے لیے امریکہ کی بھاگ دوڑ بھی ہمارے سامنے ہے. لطف کی بات یہ ہے کہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا قیام بھارت کے 1974 کے جوہری ٹیسٹ کے ردعمل کے طور عمل میں آیا تھا. مزیدیکہ امریکہ علاقے کے تمام ممالک پر بالواسطہ اور بلاواسطہ یہ دباؤ بھی ڈال رہا ہے کہ وہ بھارت کے اس رول کی توثیق کریں. عرب دنیا میں وزیراعظم نریندر مودی کے پے درپے فقید المثال استقبال اسی کی ایک کڑی ہیں. گو اس میں ایران اور تیل کی فروخت بھی اہم ترجیحات ہیں.\nاسی سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے امریکہ بھارت کو افغانستان میں اہم کردار دینے کا خواہاں ہے. اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ چین کے ساتھ قریبی تعلقات کی وجہ سے امریکہ پاکستان کو اپنے مفاد کے لیے اس درجہ "قابل بھروسہ" نہیں سمجھتا جتنا کہ بھارت کو. یہاں پاکستان اور امریکہ کی ترجیحات میں ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے. پاکستان کو ہمیشہ سے یہ خدشہ رہا ہے کہ بھارت کا افغانستان میں رسوخ دراصل پاکستان کو گھیرے میں لینے کی کوشش ہے. اور ایسی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانا پاکستان کا نیشنل سیکیورٹی مسئلہ ہے. دوسری طرف بھارت افغانستان کو اپنی دفاعی بیس کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیا کے لیے اپنی تجارتی بیس کے طور بھی دیکھتا ہے اس لیے وہ کابل میں پاؤں جمانے کے لیے مضطرب ہے.\nپاکستان کو زچ کرنے کے لیے اگر 90 کی دہائی میں اٹیمی پروگرام تھا تو اب "دہشت گردی" کا وہ ڈھول ہے جسے اس کے گلے سے باندھنے والے ہی سب سے زیادہ بجاتے ہیں. پاکستان کو دفاعی پوزیشن میں ڈالنے کے لیے پاکستان پر دہشت گردوں کی معاونت کے الزام کو بار بار دہرایا جاتا ہے. بھارت نے تو اسے صبح دوپہر شام کا وظیفہ ہی بنا لیا ہے.\nپاکستان کا ایک مسئلہ تو افغانستان کا منظر نامہ اور بھارت کو علاقہ کے ٹھیکیدار بنانے کی کوششیں ہیں. دوسری وجہ یہ ہے کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو دفاعی سے بڑھا کر اب معاشی جہت بھی دے رہا ہے. یہ بلاشبہ ایک بڑی پیش رفت ہے اور اس کی سب سے بڑی علامت چین کے ساتھ 51.5 بلین ڈالر (ابھی تک) مالیت کے وہ منصوبہ جات ہیں جنہیں سی پیک کے نام سے جانا جاتا ہے. اس کے بعد چین اور پاکستان کا تعاون اور تعلقات ہمہ جہت اور طویل المیعاد ہو جائیں گے. اس وجہ سے امریکہ پاکستان کے حوالہ سے کچھ تحفظات کا شکار نظر آتا ہے. اس کے خیال میں ساتھ چائنہ سی میں چین کی کارروائیوں کو محدود کرنے کی کوششوں کو اس سے دھچکا لگے گا. امریکہ اور اس کے حواری پاکستان کے بجائے بھارت کے ساتھ زیادہ گرم جوشی کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں جس سے بسا اوقات پاکستان کو نظر انداز کر دینے جیسا تاثر ابھرتا ہے.\nپاکستان اگر چین کے ساتھ اسٹریٹیجک الائنمنٹ کر رہا ہے تو یہ لازم ہے کہ اس کا کچھ منفی رد عمل بھی آئے گا. بین الاقوامی میڈیا پر مغربی کنٹرول کی وجہ سے بھی یہ تاثر ذرا ذیادہ ابھرتا ہے. تاہم ہمیشہ کی طرح پاکستان کی پالیسی یہی ہے کہ نہ امریکہ اور نہ ہی یورپ اور دیگر امریکی اتحادیوں سے تعلقات میں کسی بھی قسم کا بگاڑ آنے دیا جائے. اس کا نتیجہ یہ ہے پچھلے تین سال میں بھارت ایک مرتبہ بھی بھارت کے دورہ پر آئے ہوئے کسی امریکی عہدیدار، بشمول صدر اوبامہ و سیکرٹری جان کیری، کے منہ سے پاکستان کے خلاف کوئی سخت بات کہلوانے میں ناکام رہا ہے. صدر اوبامہ کی پریس کانفرنس میں تو باقاعدہ یہ بات طے رہی کہ پاکستان کے متعلق کوئی سوال نہیں ہو گا.\nمتوقع آئندہ امریکی صدر ہلیری کلنٹن کے نئے ترتیب شدہ "ایکسس آف ایول" میں شام اور روس کے ساتھ ایران بھی شامل ہے لیکن پاکستان ہنوز ایک دوست ملک ہے.\nپاکستان اس صورتحال میں اپنے روایتی حلیفوں، سعودی عرب اور چین کے ساتھ نئے حلیف بھی بنا رہا ہے. ترکی کے ساتھ تعلقات ایک نئی بلندی پر ہیں. روس کے ساتھ تعلقات بہتر ہو رہے ہیں. روس سے بڑے دفاعی سودے کے باوجود بھارت "برکس" سربراہی اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ میں روس اور چین کی مخالفت کے باعث پاکستان کے خلاف کوئی بات شامل کروانے میں ناکام رہا.\nپاکستان وسط ایشیائی ممالک سے بھی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی پالیسی پر کاربند ہے. اس سے سی پیک کی کامیابی کا بہت گہرا تعلق ہے.\nافغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے بھی کوشش جاری ہے اور طالبان اور افغان ھکومت کے مابین ثالثی کا رول بظاہر چین کو دے دیا گیا ہے تاکہ پاکستان کے متعلق بدگمانی میں کمی لائی جا سکے. تمام تر زبانی سخت کلامی کے باوصف ایک سطح پر پاکستان اور افغانستان میں تعاون بھی دیکھا جا سکتا ہے. اس کی ایک مثال افغان فورسز کی جانب سے کارروائیوں میں ٹی ٹی پی جنگجوؤں کی ہلاکت ہے.\nیہ نہیں کہ سب اچھا ہے. لیکن ایسا تو ہرگز نہیں کہ سب بہت برا ہے. نیوکلئر سپلائر گروپ میں بھارت کی شمولیت کا مسئلہ ہو، دہشت گردی کی آڑ میں بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کا گھیراؤ کرنے کی بھارتی کوشش ہو یا دیگر سفارتی جنگیں. پاکستان نے بالعموم اپنا ہدف کامیابی سے حاصل کیا. سی پیک پر بھی ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور خود برطانیہ و امریکہ اب تعاون پر آمادہ نظر آنے لگے ہیں.\nیہ سچ ہے بھارت کو بین الاقوامی میڈیا کوریج میں پاکستان پر سبقت حاصل ہے، تاہم اس کی ایک بڑی وجہ "سرکاری سرپرستی" بھی ہے کیونکہ چین کے مقابل وہ امریکہ کا مہرہ ہے. تاہم بین الاقوامی سطح پر کام ہمارے بھی رکتے نہیں. اب تو ایران کے ساتھ بھی تعاون میں اضافہ کے امکانات بڑھ رہے ہیں. چین نے سی پیک میں ایران کو شامل ہونے کی باقاعدہ دعوت بھی دی ہے.\nجو دوست سعودی عرب اور امارات میں نریندر مودی صاحب کے استقبال کا حوالہ دیتے ہیں ان کو یہ دیکھنا چاہیے کہ یہ امریکہ کی خواہش تھی جسے وہ رد نہیں کر سکتے. پاکستان ان کی نیشنل سیکیورٹی کی گارنٹی ہے، اسے وہ نظر انداز لنہیں کر سکتے.\nالبتہ بھارت کے مقابل ایک جہت ضرور ایسی ہے جہاں پاکستان کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے. وہ ہے "سافٹ پاور" .\nبھارت نے اپنی فلموں کی وجہ سے دنیا میں بہت پہچان اور عوامی پذیرائی حاصل کی جو گاہے بگاہے اس کے کام آتی ہے. حالیہ دنوں میں کرکٹ لِیگ، آئی پی ایل اور آئی سی سی میں اس کا کلیدی کردار بھی اس کے لیے رسوخ کا باعث بنے ہیں. بنگلہ دیش میں دہشت گردی کے واقعہ کی وجہ سے انگلینڈ کرکٹ تیم وہاں کے دورہ سے خائف تھی. لیکن بھارت نے پورا دباؤ ڈال کر یہ دورہ ممکن کروایا اور بنگلہ دیش کو اس کی "خدمات" کا انعام دیا. افغان کرکٹرز کو آئی پی ایل میں کھلانے کا عندیہ بھی اسی کی ایک کڑی ہے.\nپاکستان کو بھی عوامی رابطے، طلباء کے لیے اسکالرشپ اور دیگر فلاحی کاموں سے اپنے لیے جگہ پیدا کرنا ہوگی. بالخصوص افغانستان اور جب بھی ممکن ہو سکے، بنگلہ دیش میں. سافٹ پاور کا اثر دیرپا اور جامع ہوتا ہے. اس طرف ہمہ گیر توجہ کی اشد ضرورت ہے.\nہم اگر بھات کی طرح اتنے بڑے پیمانے پر ٹورنامنٹ کروا نہیں سکتے تو ٹورنامنٹ جیت تو سکتے ہیں ....؟ اس میں تو وسائل اور حالات مزاحم نہیں. پاکستان کو کرکٹ، ہاکی اور سکواش جیسے کھیلوں میں اپنی حیثیت ایک بار پھر منوانا ہو گی تاکہ اس کے عوامی امپریشن اور وقار میں اضافہ ہو.\nاختتام پر یہ بات سمجھنے کی ہے کہ پاکستان اپنی الائنمنٹ تبدیل کرنے کے مرحلہ میں ہے. اس موقع پر کچھ نئے تعلقات فروغ پذیر ہوتے ہیں اور چند پرانے کسی قدر ضعف کا شکار ... تاہم اگر سفارتی دنیا میں آپ ہدف کے بجائے حلیف ہیں اور آپ کی نئی ترجیحات کو تسلیم کیا جانے لگا ہے تو اسے "تنہائی" کسی صورت نہیں کہا جاسکتا.

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں