عورت شوہر کے ساتھ کیا کرتی ہے؟ حیا حریم

وہ بہت آن بان سے گھر سے نکلتا تھا۔\nسفید کڑکڑاتا سوٹ۔\nاکڑی گردن ۔\nپالش جوتے۔\nاسے دیکھنے والے کہہ رہے تھے۔\nکیا ہی نفیس بندہ ہے۔\nکیا پرسنالٹی ہے۔\nاپنی تعریف کے جملے اس کے کان میں پڑ تے تو گردن اور بھی اکڑ جاتی۔\n\nکوئی نہیں جانتا تھا کہ \nابھی ابھی وہ اپنی بیوی کی پٹائی کر کے نکلا ہے۔\nاس کے بھاری ہاتھوں نے نازک چہرے پر سرخ نشان چھوڑ دیا ہے۔\nاس کی طاقتور ٹھوکر نے اس کے شیش بدن پر گہرا نیل داغ دیا ہے۔\n\nکوئی جانتا بھی تو کیسے؟\nكہ وہ اپنی دوستوں کو بتارہی تھی،\nکہ سیڑھیوں سے گر گئی ہوں۔\nآنکھیں سوجن کا شکار ہیں،\nرات کسی کیڑے نے کاٹ لیا ہے شاید۔\n\nہاں کوئی جانتا بھی تو کیسے؟\nوہ پگلی کہہ رہی تھی ماں سے،\nکہ میں آج ملنے نہیں آسکتی، میرے گھر مہمان آگئے ہیں۔\nاور وہ نادان مہمانوں سے کہہ رہی تھی،\nمیرے شوہر بہت مصروف ہوتے ہیں، اس لیے گھر کم ہی آتے ہیں۔\nوہ اپنی بہن کو مطمئن کر رہی تھی یہ کہہ کر،\nکہ میں بہت خوش ہوں۔\n\nوہ آنکھوں میں امڈتے آنسوؤں کو زکام کا نام دے کر کہہ رہی تھی کہ\nمیرے شوہر بہت اچھے ہیں،\nہاں بہت اچھے ہیں۔\n\nدل میں سلگتی چنگاریاں دبا کر وہ اپنی پڑوسن کو بتا رہی تھی کہ،\nمیرے شوہر میرا بہت خیال رکھتے ہیں۔\nیوں سب مطمئن تھے اس کی زندگی سے۔\n\nکیا؟؟؟؟؟ طلاق؟؟؟؟؟ \nاسے؟؟ کیوں؟؟ کیسے؟؟؟\nاس کے شوہر تو بہت اچھے تھے ،\nاس نے خود مجھے بتایا تھا،\nوہ تو بہت خوش تھی۔\nکئی چبھتے ہوئے سوال اٹھ رہے تھے۔\n\nاور وہ گردن اکڑا کر بھری مجلس میں بتا رہا تھا،\nمیں نے اسے طلاق اس لیے دی کہ \nوہ بد زبان تھی،\nفضول خرچ تھی،\nبد کردار تھی۔\n\nاور وہ سر جھکائے سوچ رہی تھی،\nگر میں نادان نہ ہوتی،\nاس کی خامیوں پر پردے نہ ڈالتی،\nتو آج اس مرد کی گردن کا سریا بھی ضرور ٹیڑھا ہوتا۔\n\nجس مرد کی اس نے ہر جگہ عزت بنائی تھی، \nجس کی ساکھ بنائی تھی،\n وہی آج اسے داغ دار کر چکا تھا۔

حیا حریم

حیا حریم ماہنامہ حیا کراچی کی مدیرہ ہیں۔ علوم فقه میں تخصص کے بعد اب علوم قرآن میں ایم فل کر رہی ہیں۔ آن لائن تعلیم و تربیت اکیڈمی برائے قرآن و علوم عربیہ کی انچارج ہیں۔

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam