راز ِ زندگی - نورین تبسم

”زندگی کچھ دو کچھ لو کا نام ہے.“ خوشی چاہتے ہو، خوشی دے دو، خوشی مل جائے گی۔ سکون چاہتے ہو، سکون دے دو، سکون مل جائے گا۔ عزت چاہتے ہو، عزت دے دو، عزت مل جائے گی۔

سوال یہ ہے کہ اگر یہ سب اِسی طرح سے ہے اور بہترین زندگی گُزارنے کا فلسفہ اتنا ہی سیدھا اور آسان ہے تو پھر انسان فلاح کے راستے پر کیوں نہیں چل پا رہا؟ انسانی عقل اس پر عمل کرکے کیوں نہیں ابدی اطمینان حاصل کر سکی؟ ہماری تو ساری عمر دوسروں کو آسانیاں بہم پہنچاتے گزر جاتی ہے اور ہمیں ایک پل کی خوشی نصیب نہیں ہوتی۔ زندگی کی شاہراہ پر بوجھ سے لدے گھوڑے کو سرپٹ دوڑتے کہیں دم لینےکی مہلت نہیں ملتی۔ چابک پر چابک پڑتے ہیں، اپنے سامان کو دیانت داری سے منزل تک پہنچا دے، پھر بھی کوئی صلہ نہیں۔ کیا کیا جائے؟ انسان نیکی کرنا چھوڑ دے؟ اپنے حصے کا کام دوسروں پر ڈال دے؟ خود غرض اور بےحس بن جائے کہ یہی اس دور کا چلن ہے۔ کیا یہ ہماری زندگی کا اختتام ہے؟ یہی وہ سبق ہے جو دنیا داری سکھاتا ہے؟

نہیں! ہمیں ہر چیز کی تہہ تک جانا ہو گا۔ ہر شے سے بالاتر ہو کر جائزہ لینا ہے۔ جیسے کہا گیا؛ خوشی چاہتے ہو خوشی دے دو، تو کیا ہے خوشی؟ ہمیں تو اس کا مفہوم ہی معلوم نہیں، ایک گھڑی کی تسکین پانی کےگھونٹ کی طرح ہے کہ جس کے بعد طلب مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر سَیر ہو کر پانی پیا جائے تو کچھ دیر بعد پیاس پھر اسی صُورت لگتی ہے۔ سکون چاہتے ہو سکون دے دو۔ ہم کیا جانیں سکون کس شے میں ہے۔ پیاس میں ہے یا سیراب ہونے میں؟ کیا خبر جسے ہم سکون سمجھ رہے ہوں، وہ ہمارا تکبّر، ہماری انا ہو؟ ہمیں ہمارے اعمال آراستہ کر کے دکھائے جا رہے ہوں اور اس دینے دلانے کے چکر میں بجائے پانے کے اپنے پاس جو بچا ہے اُسے بھی ضائع کر بیٹھیں۔ عزت چاہتے ہوعزت دے دو۔ عزت خواہش کرنی والی شے ہی نہیں۔ یہ تو ہمارا بنیادی حق ہے۔ زندگی گزارنے کا پہلا عمل ہے۔ عزت ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ خوف، ڈر یا حالات کے دباؤ سے کسی کے آگے جُھکا تو جا سکتا ہے، مگر اگرکسی کی عزت دل سے نکل جائے تو دوبارہ کسی قیمت پر واپس نہیں آ سکتی۔ عزت کسی شخص کسی رشتے کے ساتھ مشروط نہیں۔ عزت ہر شے کی مقدم ہے، چاہے جان دار ہو یا بےجان، انمول ہو یا حقیر، آقا ہو یا غلام، با افراط ہو یا بمُشکل میسّر ہو۔ اپنی راہ میں آنے والی ہر چیزکی عزت اگر دل سے کریں گے تو ہماری اپنی زندگی ہی پُرسکون رہے گی۔ عزت دینے یا لینے کا نام نہیں بلکہ عزت محسوس کرنے کا نام ہے۔ یہ ہوا میں رچی خوشبو، روح میں اُترنے والی خوشی کا نام ہے۔ عزت کسی کو بتائے بغیر، جتائے بغیراُس کی قدر کرنے کا نام ہے۔ عزت وہ نیکی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہےکہ دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہو۔

راہِ عمل یہ ہے کہ ہمیں کسی قسم کی تمنا کیے بغیر صرف اپنے حصے کا کام کرنا ہے اور وہ بھی جتنا ہماری استطاعت ہے۔ اور رب کا شُکر ہر حال میں ادا کرنا ہے کہ اس نے ہمت و طاقت دی ہے اور دینے والا ہاتھ عطا کیا ہے، وگر نہ ہم سے بڑھ کر بےوقوف کون ہوگا، جو دینے والے ہاتھ کو بھلا کر لینے والے ہاتھ کی تمنا رکھے۔ ہمیں کیا حق ہے کہ رب سے اپنی مرضی کا رزق طلب کریں۔ وہ خالق و مالک، رحمٰن و رحیم کیسے اس ناقدر شناس دنیا میں بےآسرا چھوڑ سکتا ہے۔ ہمیں اللہ سے اُس کا ساتھ مانگنا ہے، اُس کا رحم مانگنا ہے، اس کا کرم مانگنا ہے، اپنی چاہت کو رب کی رضا کے سامنے جھکانا ہے۔

”یہ دنیا پانے کی نہیں سہنے کی جا ہے، اگر دُنیا میں من چاہی عارضی خوشیاں حاصل کر لیں تو آخرت کےعذاب کو سہنا پڑے گا.“

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.