آفتِ ارضی، آٹھ اکتوبر 2005 - نورین تبسم

آیا ہے تو جہاں میں مثالِ شرار دیکھ\nدم دے نہ جائے ہستیء ناپائیدار دیکھ (علامہ اقبال)\n۔\nانسانی زندگی حادثات و واقعات سے عبارت ہے۔ تباہی ازل سےانسان کے ہم قدم رہی ہے۔ دنیا کو جائےعبرت کہا جاتا ہے اور عبرت کے یہ مناظر ہم ہر روز کسی نہ کسی شکل میں اپنے اِردگرد دیکھتے ہیں۔ کبھی انسان پر انسان کے ہاتھوں ظلم سے اور کبھی قدرتی آفات کی صورت میں المیوں کی ایک بھیانک داستان ہماری نظر کے سامنے سے گزرتی جاتی ہے۔\nپاکستان اور دنیا کی تاریخ زلزلوں سے بھری پڑی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں مختلف درجوں کے زلزلے سارا سال آتے رہتے ہیں اور تباہی وبربادی کے انمنٹ نشان چھوڑ جاتے ہیں۔ لیکن ایسا ہی ایک زلزلہ پاکستان کے لاکھوں لوگوں کو تہس نہس کر دے گا، یہ کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔\n\nآٹھ اکتوبر2005ء کو رمضان المبارک کا تیسرا روزہ تھا۔ جمعہ کی صبح آٹھ سے نو بجے کے درمیان پاکستان کے شمال مشرقی پہاڑی علاقے میں7.6 شدت کا زلزلہ آیا۔ اس کے نتیجے میں انسانی جان مال کے ضیاع کی صورت میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ وقوع پذیر ہوا۔ انتہائی کم گہرائی میں ہونے والے اس عظیم ارضیاتی تغیر نے صوبہ سرحد اور آزادکشمیر کے اضلاع میں چہارسو قیامتِ صغریٰ برپا کر دی۔آزاد جموں وکشمیر اور صوبہ سرحد کی پندرہ تحصیلیں صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں۔\n\nایک منٹ کے اندر زبردست چنگھاڑ کے ساتھ زلزلے کے پےدرپے شدید جھٹکوں نے لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی مہلت ہی نہ دی۔ بلندوبالاعمارتیں خس وخاشاک کا ڈھیر بن گئیں، ہزاروں لوگ ٹنوں ملبے تلے دب گئے۔ بہت کم لوگ اپنی جانیں بچانے میں کامیاب ہوئے۔ پہاڑ اپنی جگہ سے سرک گئے، سڑکیں لینڈ سلائیڈنگ کی نذر ہو گئیں اور ان پر رواں دواں گاڑیاں دریا میں جا گریں، رکاوٹوں کے باعث دریا کے بہاؤ تھم گئے اور سیلاب کا خطرہ پیدا ہوگیا۔ غرض یہ کہ بےچارگی اور بےبسی کی ایک نہ ختم ہونے والی داستان نےجنم لیا۔ جہاں بےشمار لوگ دنیا سے رخصت ہوئے وہیں شدید جسمانی اور ذہنی گھاؤ ہزاروں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محتاجی دے کر زندہ درگور کر گئے۔ خاندان کے خاندان ختم ہو گئے، بچے اپنے پیاروں سے بچھڑ گئے۔ ہزاروں تعلیمی ادارے بچوں کے مدفن بن گئے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک لاکھ کے قریب افراد ہلاک ہوئے، ہزاروں ذہنی اور جسمانی طور پر معذور ہوگئے۔ اس سے بڑھ کر لاکھوں افراد نہ صرف سر پر چھت بلکہ پیروں تلے آبائی علاقوں کی زمین سے بھی محروم ہو گئے۔ ان علاقوں کوزلزلے کے ممکنہ خدشے کے پیشِ نظر رہائش کے لیے خطرناک قرار دے کر ریڈزون کہا گیا۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق اسی لاکھ سے زائد آبادی اس المیے سے متاثر ہوئی۔\nکہیں اجڑی اجڑی سی منزلیں کہیں ٹوٹے پھوٹے سے بام ودر\nیہ وہی دیار ہے دوستو جہاں لوگ پھرتے تھے رات بھر\n\nآزادکشمیر کا دارالخلافہ مظفرآباد جو حسین وادیوں جہلم اور نیلم کے سنگم پر ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی معیار کا سیاحتی شہر بن رہا تھا، لمحوں میں یہ جیتا جاگتا شہر عہدِ جدید کا آثارِ قدیمہ بن گیا۔ دیکھنے والے اسے نئےعہد کا ہڑپہ کہتے جہاں صدیوں تک دے ہوئے ملبے سے انسانی اعضاءاور تہذیبِ انسانی سے وابستہ دوسری اشیاء برآمد ہو کر آنے والے دور میں تہذیبوں کے لیے عبرت کا سامان بنتی رہیں گی۔ آزادکشمیر کے وزیرِاعظم بےساختہ کہہ اُٹھے کہ میں اب قبرستان کا وزیرِاعظم ہوں۔\n\nزلزلے کی تباہ کاریوں سے قریبی شہر دارالحکومت اسلام آباد بھی محفوظ نہ رہا۔ اس کے سیکٹر ایف ٹین میں جدید سہولیات سے آراستہ رہائشی ٹاور پہلے ہی جھٹکے میں زمین بوس ہوگیا جس میں قریباً سو کے قریب افراد جاں بحق ہوگئے۔\nافراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر\nہرفرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ\n\nآٹھ اکتوبر کا زلزلہ جہاں ایک بہت بڑی قدرتی آفت تھا وہیں یہ ہر لحاظ سے پوری پاکستانی قوم کا امتحان بھی ٹھہرا۔ گلگت سے کراچی تک اور خیبر سے گوادر تک پاکستانی عوام نے ہر طرح کے اختلافات پسِ پشت ڈال کر متاثرینِ زلزلہ کی بھرپور جانی اور مالی امداد کی۔ جدید مشینری کی عدم دستیابی کے باوجود آہنی عزم کے بل بوتے پر ہمارے جوان زندگیاں بچانے میں پیش پیش رہے۔ ہسپتالوں میں خون دینے والوں کی قطاریں لگ گئیں۔ ایک جذبہ تھا، ایک لگن تھی جس کے پاس جو صلاحیت تھی، اُس نے قوم کے سامنےرکھ دی، نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ بیرونِ ملک سے بھی دردمند پاکستانی کشاں کشاں اپنی قوم کی مدد کو چلے آئے۔ انسانی جذبوں اور اٹوٹ رشتوں کی ایک نئی تاریخ رقم ہوئی۔ اُداسی اور غم کی اندھیری شام کے بعد ایک نیا سورج طلوع ہوا جس نے فرقہ واریت، لسانی تعصب، علاقائی تفریق اور سیاسی گروہ بندیوں سے قوم کو آزاد کر دیا۔ اہلِ پاکستان نے پوری دنیا سے یہ منوا لیا کہ عام حالات میں یہ قوم جس قدر بکھری ہوئی اور الگ الگ راستوں کی مسافر نظر آتی ہے، مصائب اور آفات کے وقت تسبیح کے دانوں کی طرح جُڑ جاتی ہے۔علامہ اقبال نے بہت پہلے اس حقیقت کا ادراک ان الفاظ میں کیا۔\nنہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے\nذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی\n\nآٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے کے بعد اگر پاکستانی قوم کا جذبۂ خدمت اُبھر کر سامنے آیا تو انسان کی سفاکی اور بےحسی کے لرزہ خیز واقعات نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا۔جب مرتے ہوئے جسموں سے زیورات نوچے گئے تو کہیں بہت سے بےسہارا بچےاور خواتین نامعلوم افراد کی خباثت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ سینکڑوں ابھی تک لاپتہ ہیں جن کی موت یا زندگی کے بارے میں ان کے پیارے شاید ہمیشہ شک و شبے کا شکار رہیں گے۔\n\nاس ہولناک زلزلے کو آئے ایک عشرہ گذر گیا، اور آج یہ عالم ہےکہ اِن علاقوں کے بہت سے لوگ اب بھی خیموں اورعارضی مکانوں میں مقیم ہیں۔ زلزلے سے منہدم ہو چکے تعلیمی ادارے بمشکل پچاس فیصد بحال ہوئے۔ صوبہ سرحد میں وادی کاغان کا سیاحتی دروازہ بالاکوٹ کا شہر جو تقریباً پورا کا پورا تباہ ہو گیا تھا، فالٹ لائن پر ہونے کی وجہ سے یہاں حکومت کی طرف سے کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا گیا۔ حکومتی سطح پر بحالی کے اقددامات صرف دعوؤں اور وعدوں کی حد سے آگے نہ بڑھ سکے۔ اپنی نسلوں کو حرام کی دولت وراثت میں دینے والے اہلِ اقتدار نے کرپشن اور لوٹ مار کی بہتی گنگا میں اپنا حسہ خوب وصول کیا، وقت گزرنے سے مالی اور معاشی زخم تو کسی حد تک مندمل ہو ہی گئے لیکن ایک قومی سانحہ محض ان خاندانوں کی ذاتی یاد بن کر رہ گیا جن کے اپنے اس زلزلے کی نذر ہو گئے تھے۔\nرو میں ہے رخشِ عمر کہاں دیکھیے تھمے\nنَے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں