میں الیاس گھمن کو نہیں جانتا، مگر؟ زبیر منصوری

زبیر منصوری میں الیاس گھمن کو نہیں جانتا\nمگر\nمیں یہ ضرور جانتا ہوں کہ اس دنیا میں جو بڑے سے بڑا پارسا ہے، وہ بھی اللہ کو چیلنج نہیں کر سکتا کہ وہ پاک صاف ہے، اس لیے بے شک اس پر پڑی ستاری کی چادر ہٹا دی جائے\nتو پھر پارسائی اور گناہ گاری میں بس اتنا ہی فرق ہوا ناں کہ میرے رب نے ایک کی چادر ڈھکی ہوئی ہے اور دوسرے کی ہٹا دی۔\nیہ نیک نام، وہ بدنام؟\nیہ تقی اللہ متقی، وہ بے حیا؟\nبھائیو!\nافراد کی ذاتی خامیاں اچھالنا دراصل غلیظ کیچڑ میں پتھر مارنا ہے، اس کے نتیجے میں بس گندگی ہی پھیلتی ہے، بدبو ہی بڑھتی ہے، خرابی ہی جگہ پاتی ہے جبکہ ایسے افراد جو اجتماعی معاملات کے ذمہ دار ہیں، ان کی وہ خرابیاں جن کا تعق اجتماعی خرابی سے ہے، انہیں پوری احتیاط سے بیان کرنا اور یہ نیت رکھنا کہ اس سے آپ کا مقصد محض اصلاح ہے، دین تو ہمیں بس یہی اصول سکھاتا ہے۔\nایسے حالات میں کہ جب دین داروں کو سامنے رکھ کر دین کی فضیلت و شرف کی پگڑی کو سر بازار رسوا کیا جا رہا ہو، اس کا حصہ بننا، اس پر مزے لے لے کر تبصرے کرنا، اسے فروغ دینا، اس سے لطف اٹھانا باوجود اس کے کہ سامنے والے فریق نے آپ کے معاملے میں ظلم کی انتہا ہی کیوں نہ کی ہو بہرحال درست نہیں۔\nبد قسمتی سے طبقہ علماء نے جس طرح دین کی آڑ میں بدترین دنیا داری کرنے والوں کو کھلا چھوڑا ہوا ہے، اس کی وجہ سے صورتحال یہاں آن پہنچی ہے کہ دین سے محبت رکھنے والے بھی خود کی بورڈ اور ماؤس تھام کر چڑھ دوڑے ہیں اور میرے نبی ﷺ کا دین بیک وقت اندر اور باہر سے شدید تیر اندازی کی زد میں ہے۔\nایسے میں\nوصل کے اسباب پیدا ہوں تری تحریر سے\nدیکھ کوئی دل نہ دکھ جائے تری تقریر سے\nاور ہاں یاد رکھنا انسان اپنے ہر لفظ اور خیال پر آزمایا جائے گا، اسے ثابت کرنا ہوگا، انسان بھول، غلطی، گناہ اور نزغہ، شیطان کا آسان شکار ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا کہ زندگی پہیے کی طرح گھومتی ہے، اگر آج کسی کی ”لوز بال“ تمہارے بیٹ کی زد میں ہے تو کل ترتیب تبدیل بھی ہو سکتی ہے، کوئی دوسرا اوپر اور میں اور آپ نیچے ہو سکتے ہیں، اس لیے لفظوں کے تیر برساتے اور حظ اٹھاتے ہوئے ایک لمحہ کو سوچ لیجیے کہ وہ کیا جذبہ ہے جو آپ کو اس پر اکسا رہا ہے، اصلاح یا لطف اندوزی اور ذہنی عیاشی؟\nعزیزو!\nاللہ کو پردہ پوشی پسند ہے اور وہ کہتا ہے کہ میں پردہ ڈالنے والوں کے عیب ڈھک دوں گا۔\nہے کوئی جسے اللہ کی طرف سے پردہ ڈھکے جانے کی ضرورت ہو؟\nاے اللہ مجھے ضرورت سب سے زیادہ ہے۔\nاے اللہ میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں۔\nاے اللہ میں تیری ستاری کا واسطہ دیتا ہوں۔\nاے اللہ میں الیاس گھمن پر کچھ آگے نہیں بڑھاؤں گا، بس تو میرے پردے ڈھکے رکھنا۔\nتو نے پردہ اٹھایا تو میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گا۔\nاے اللہ معافی\nمیری معافی\nمیری ہاتھ جوڑ کر معافی۔

زبیر منصوری

زبیر منصوری جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید و محبت بانٹنا، اورخواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam