چاند اور زندگی کی چاندنی - نورین تبسم

یکم محرم الحرام 1438ہجری\n\nآج چاند کی پہلی تاریخ ہے۔ ہم چاند دیکھتے ہیں، یہ بڑھتا جاتا ہے اور پھر اپنے پورے جوبن پر آتا ہے۔ چاندنی ہماری آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے۔ پھر رفتہ رفتہ گھٹتا ہے یہاں تک کہ نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے اور پھر تاریک راتیں اور دوبارہ وہی سلسلہ کہ یہ ازل سے جاری ہے اور ابد تک رہےگا۔\n\nیہی ہماری زندگی کہانی بھی ہے۔ ہم پیدا ہوتے ہیں، سفرِ زندگی طے کرتے ہیں۔ ہرانسان چاند کی طرح روشن ہوتا ہے، فرق یہ ہے کہ کسی کی چاندنی ویرانے میں اُترتی ہے تو کسی کی زمانے کی نگاہوں کے سامنے۔ کوئی اپنی چاندنی سے خائف ہو کر خود سے ڈر جاتا ہے اور کوئی اسے اپنا سرمایہ جان کر فخر سے پیش کرتا ہے۔ کسی کی چاندنی راہ دکھاتی ہے تو کسی کی چاندنی راہ کھوٹی بھی کر دیتی ہے۔ یہ چاندنی ہی ہے جو جوار بھاٹآ بن کر سمندر میں طوفان برپا کر دیتی ہے تو کبھی برفیلے پہاڑوں کے دامن میں کسی جھیل کنارے عشق لازوال کی داستانیں رقم کرتی ہے۔\n\nیہ چاندنی کا فیض ہےجو اگر جہازوں کو غرق کرتی ہے تو بھٹکے ہوئے ملاح کی نیّا بھی پار لگا دیتی ہے۔ چاندنی نہ صرف باہر کی دنیا روشن کرتی ہے بلکہ ہمارے وجود کے اندر بھی ایک نئی جوت جگا دیتی ہے۔\n\nہمیں اپنے وجود کو زندہ و آباد رکھنا ہے کیونکہ چاندنی گھروں میں ہی اچھی لگتی ہے اور قبرستان کے سناٹوں میں اس سے زیادہ ہیبت ناک منظر کوئی نہیں۔ چاندنی بھی وقت کی مہمان ہے۔ وقت کتنے روشن چہرے، کتنی چاندنی راتیں اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ چاند ڈھلتا ہے، رو شنی کم ہوتی ہے، انسان صرف اپنے یقین اور اعتماد کے سہارے سفر طے کرتا ہے۔\nیہی ہماری دنیا ہے کہ نظروں سے اوجھل ہونا فنا نہیں، خاتمہ نہیں بلکہ یہ کسی اور جانب طلوع ہونے کا اشارہ ہے۔ جہاں ہماری نظر کام نہیں کرتی، ہماری سوچ سے پرے بھی کوئی اور دنیا ہے جو ہماری منتظر ہے۔\nاللہ سے دعا ہے کہ وہ چاند جو یہاں ہمارے وجود کو روشنی دیتا ہے وہی چاندنی ابدی زندگی میں بھی ہمارے ساتھ رہے۔ آمین یا رب العالمین۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں