سرجن نریندر مودی کی سرجیکل اسٹرائیک - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

عاصم اللہ بخش مقبوضہ جموں کشمیر میں اڑی کے مقام پر واقع بھارتی فوج کے بریگیڈ ہیڈ کوارٹر پر مسلح افراد کے حملہ میں 18 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھارت میں سب سے زیادہ دہرائی جانے والی ترکیب تھی ۔۔۔ ”سرجیکل اسٹرئک“۔\n\nحملہ کے اگلے روز ہی بھارتی میڈیا نے یہ خبر چلا دی کہ بھارت نے بالآخر پاکستان کو سبق سکھانے کے فیصلہ پر عمل درآمد کر دیا اور ایک سرجیکل اسٹرائک میں 10 دہشت گردوں کو مار گرایا۔ اس خبر کا چلنا تھا کہ بھارت میں ہر طرف داد و تحسین کے غلغلے بلند ہونے لگے، کانوں پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ میڈیا اب جنگی رہنمائی کا فریضہ اپنے ذمہ لیے ہوئی تھا، بحث جاری تھی کہ یہیں رک جایا جائے یا پھر سزا کے اس عمل کو مزید آگے بڑھایا جائے۔\n\nکہاں تو اس قدر شور اور پھر اچانک ایک گہرا سکوت طاری ہو گیا۔\n\nبھارتی فوج نے اس نوع کے کسی بھی واقعہ کی تصدیق سے انکار کر دیا۔ اب بغلیں بجانے کے بجائے بغلیں جھانکنے کا سفر شروع ہوا۔ ہر کوئی یہی پوچھتا پھر رہا تھا کہ آخر یہ خبر جاری کہاں سے ہوئی، اس کی تصدیق کیوں نہیں کی گئی، اس کا سورس کیا یا کون تھا؟ وغیرہ وغیرہ۔\n\nپھر ہم نے دیکھا کہ بات کو گھمانے کی کوشش شروع ہوئی اور غربت اور جہالت کے خلاف جنگ کا ڈول ڈالا گیا، پاکستان کو یہ یاد دلایا گیا کہ اس سے تو اس کے اپنے سکہ بند علاقے نہیں سنبھالے جاتے تو وہ کشمیر کے چکر میں کیوں پڑ رہا ہے۔ پھر سفارتی تنہائی کی بات کی گئی۔ اس دوران بھارت کے دو ”حلیف“ ممالک ، روس اور ایران کی افواج پاکستان کے ساتھ جنگی مشقیں کرنے پاکستان کی سرزمین پر آ پہنچیں اور پہلے سے طے شدہ ان دوروں کی منسوخی سے انکار کر دیا تو پھر بھارت نے ”کاسہ لیس سفارت کاری“ کا نمونہ پیش کرتے ہوئے بنگلہ دیش، بھوٹان اور افغانستان کی بیساکھیوں کا سہارا لے کر آئندہ ماہ اسلام آباد میں ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس کا بائکاٹ کر دیا۔\n\nاس سب کے باوجود سرجیکل سٹرائیک کا جن تھا کہ بوتل میں جانے کو تیار نہ تھا۔ پھر اچانک آج ہم نے بھارتی میڈیا پر سنا کہ وزارت خارجہ و دفاع مل کر ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کرنے جارہی ہیں۔ اس کانفرنس کے دوران بھارتی فوج کے ڈی جی ملٹری آپریشن نے یہ اعلان کیا کہ بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول کے ساتھ سرجیکل سٹرائیک کی ہے، جس میں دہشت گردوں کو لانچ کرنے کے اڈے تباہ کر دیےگئے اور بڑا جانی نقصان ہوا۔ بھارتی ڈائریکٹر جنرل نے اس موقع پر تین باتیں نہایت اہم کہیں:\n1۔ یہ آپریشن لائن آف کنٹرل کے ساتھ ساتھ ہوا۔\n2۔ آئندہ ایسا آپریشن کرنے کا فی الحال کوئی پروگرام نہیں، نہ ہی لائن آف کنٹول کے پار ایسا آپریشن کرنے کا پلان ہے۔\n3۔ پاکستانی ڈی جی ایم او کو اس بارے پہلے سے بتا دیا گیا تھا۔\n\nآپ مندرجہ بالا بیان میں دیکھ سکتے ہیں کہ ایک حصہ بھارتی میڈیا کے لیے ہے کہ سرجیکل آپریشن کا نام سنو اور آگے خیال کے گھوڑے کو ایڑ لگا دو، نیز بھارتی عوام کو اس گھوڑے پر بٹھانا مت بھولنا۔ بیان کا دوسرا حصہ بین الاقوامی برادری کے لیے ہے کہ ہم نے کچھ بھی ”انقلابی“ نہیں کیا اور رولز آف انگیجمنٹ کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔\n\nجیسا کہ توقع تھی بھارتی میڈیا نے کان چیک کرنا وقت کا ضیاع خیال کیا اور بس اس طرف کو دوڑ لگا دی جدھر فوج نے کہا تھا۔ یہ بھی کہا کہ نقصان کنٹرول لائن کے پار ہوا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ Hot Pursuit ہی ہے، یعنی دشمن کے علاقہ میں کاروائی ہوئی ہے۔\n\nہوا اصل میں یہ کہ بھارت نے ایک بار پھر کنٹرول لائن پر بلا اشتعال گولہ باری کر دی۔ اب یہ گولے تو کنٹرول لائن کے اِس پار ہی گرنے تھے۔ اسی کو بھارتی فوج نےکہہ دیا کہ یہ ایک سرجیکل سٹرائک ہے۔ جیسے بچوں کو سکول میں جملہ بنانے کے لیے کوئی بھی لفظ دیا جائے تو وہ ہر لفظ کا ایک ہی فقرہ بناتے ہیں۔ یہ ایک قلم ہے، یہ ایک گاڑی ہے۔ سو یہ ایک سرجیکل اسٹرائک تھی۔ بہرحال پاکستان نے بھی اس کا بھرپور جواب دیا۔ پاکستان بھارت کی طرح سول آبادی کو ٹارگٹ کر کے سورما نہیں بن سکتا۔ کنٹرول لائن کے پار بھی ہمارے ہی لوگ ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ امر بھی ایک ”لائن آف کنٹرول“ ہے، بمباری اور لاشین گرانے کا یہ فرق ہی دراصل مسئلہ کشمیر کا اصل رخ بھی متعین کرتا ہے۔ پاکستان کے لیے کشمیر محض زمین کا ٹکڑا نہیں ہے۔ کشمیر تو کشمیریوں کے ساتھ ہی کشمیر ہے۔\n\nانٹر سروسز پبلک ریلیشنز نے بھی اس قسم کے کسی بھی واقعہ کے وقوع پذیر ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔ یعنی اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو یونہی ختم نہ ہو جاتی۔ اس کا ایک بڑا جواب دیا جاتا۔\n\nتمام صورتحال بالکل واضح ہے۔ تاہم ایک سوال جواب طلب ہے اور اس کا جواب پاکستانی فوج نے دینا ہے۔ کیا بھارتی ڈی جی ایم او نے پاکستانی ڈی جی ایم او سے بات کی؟ اگر ہاں، تو وہ کیا بات تھی؟ اگر یہ بھارتی فوج کی غلط بیانی ہے تو اس پر بہت بڑا طوفان اٹھایا جا سکتا ہے۔ اگرچہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کال کی تصدیق کی ہے اور یہ کہا ہے کہ زمین پر بھارتی دعووں کی تصدیق نہیں ہو سکی. مگر اس پر زیادہ بہتر انداز میں اپنا مؤقف بیان کرنے کی ضرورت ہے.

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں