آنے والے دن عورت کے ہیں – زبیرمنصوری

زبیر منصوری آنے والے دن خواتین کے ہیں۔\nہمیں اچھا لگے یا برا معاشرہ بہر حال ماڈرنائز Modernise ہونے جا رہا ہے۔\nعورت کو مغرب کا پروردہ میڈیا گھر کے قلعہ سے باہر لا چکا ہے۔\nاسے سبز باغ دکھا کر بے باک بنایا جا چکا ہے۔\nوہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا چکے ہیں۔\nنہایت خاموشی سے ایسے قوانین بن چکے ہیں جن کے بعد گھر سے بھاگنے والی لڑکی عدالت کے ذریعہ باپ کو جیل بھجوا کرآشنا کے ساتھ اس کے گھر جا سکتی ہے۔ (آہ)\nحیا، حجاب، وفا، پاکیزگی، شرافت اور اخلاق جیسی روایات و اقدار منہ چھپاتی پھرتی ہیں، انہیں کوئی جائے پناہ نہیں ملتی۔\nاین جی اوز اور امریکن سفارتخانہ ہاتھ دکھا چکے۔\nآنے والے کل میں معاشرے عورتیں چلا رہی ہوں گی، فیصلے ان کی مرضی سے ہو رہے ہوں گے، اہم ادارے ان کے پاس ہوں گے۔\nمیرے لفظ اگر کچھ آنکھوں کو ناخوشگوار لگ رہے ہیں تو یقین کیجیے لکھتے ہوئے میں بھی آنکھوں کی پتلیاں دھو رہا ہوں مگر آنے والے کل کا یہ منظر بدلنا؟\nکاش میرے بس میں ہوتا۔\nاس سونامی طوفان سے کچھ بیٹیوں کو بچانے کی ایک ہی صورت ہے۔\nجزوی، ضمنی، ذیلی چیزوں کی اصلاح ان پر مسلط کرنے کے بجائے نرمی، محبت اور دلیل کے ساتھ بیٹیوں کو معاشرتی روایات سے نہیں بس اسلام کی بنیادی ہدایات سے جوڑنے کی کوشش کریں۔\n1) اس نسل کو ”تحمل“ سے سمجھنے کے بجائے ”تحکم“ سے سیدھا کرنا ممکن نہیں۔\n2) قران، رسول حدیث، آخرت کو اس نسل کی نظر سے دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ ان کی نظر میں بد قسمتی سے یہ اپنا اثر کھو بیٹھے ہیں اور اس کا آغاز اس روز ہوا تھا جب شرفا نے اپنے گھر کیبل کا کنکشن لگوایا تھا اور اپنے بچوں کو مہنگے سیکولر اسکول میں داخل کروایا تھا یا پھر نیا فون لے کر تنہائی فراہم کی تھی اور پیار سے دعوی کیا تھا کہ ”مجھے اپنی بیٹی پر پورا بھروسہ ہے“\n3) طوفان دروازوں سے ٹکرا رہا ہے، محبت اور لہجہ کی نرمی کے” کہف“ بنائیں\n4) شیطان کے گھر میں داخلے کے دروازے بند کریں۔\n5) متبادل تیار کرنے پر ریسرچ اور ڈیولپمنٹ کے ادارے بنائیں۔\n6) گھر کے ڈرائنگ رومز کو ”فری کائونسلنگ سینٹرز“ میں بدل لیں۔\n7) چھوٹی چھوٹی چیزوں میں آزادی دیں، سمجھ لیں کہ زمانہ بدل گیا۔\n8) جنریشن گیپ کا اعتراف کریں، بچیوں کو سمیٹیں، ان کی صلاحیتوں کو دیکھیں اور راستہ دیں، اس سے پہلے کہ وہ چھین کر لے لیں کیونکہ صرف بند باندھیں گے تو طوفان انہیں بہا لے جائیں گے۔\n9) یہ نسل ایموشنل بلیک میلنگ کو سمجھنے لگی ہے، آپ کے آنسو اس کی نظر میں اکثر بس پانی کے چند قطرے ہوتے ہیں، آپ بھی اب سمجھ لیں اور انہیں یوں مٹی میں نہ رولیں۔\n10) روایتی اسلام اور محمدﷺ کے اصل اسلام کا فرق سمجھیں۔\nسمجھیں اس سے پہلے کہ وقت اور حالات کے تھپڑ ہمیں سمجھائیں۔

زبیر منصوری

زبیر منصوری جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید و محبت بانٹنا، اورخواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam