کیا عالمی انتہا پسندی کا ذمہ دار مذہب ہے؟ ڈاکٹر رانا تنویر قاسم

پاکستان کے مدارس، کالج اور یونیورسٹیوں میں دی جانے والی تعلیم اور سماجی نتائج پر ایک مستقل بحث موجود ہے۔ شدت پسندی، دہشت گردی اور انتہاپسندی کو ہمیشہ معاشی اور سماجی پس منظر کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے، بلکہ سازشی تھیوریز بھی بنائی جاتی ہی اور مذاہب عالم کی باہمی جنگ کے نظریات، واقعات کی منظر کشی کی جاتی ہے۔

دنیا میں انقلاب کی تاریخ بہت قدیم ہے لیکن عرب کی سرزمین میں جو عظیم الشان انقلاب آج سے ساڑھے چودہ سوسال قبل ہادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں رونما ہوا، اس کی کوئی مثال نہیں پیش کی جاسکتی۔ اس دور میں ایران و روم مذہبی وسیاسی اعتبار سے عالمی طاقتیں تھیں۔ لیکن جزیرہ عرب میں باہمی جنگوں میں درندگی اور وحشیانہ حرکات ان کے لیے فخر کا باعث تھیں۔ غیض وغضب کے عالم میں شہروں کو نذر آتش کر دینا، بستیوں کو تباہ و برباد کر دینا، حسین و جمیل عورتوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا لینا، دشمن قوم کی تذلیل و توہین کی خاطر معصوم بچوں کو بےدریغ قتل کر دینا، یہاں تک کہ مردہ لاشوں کے اعضاء کاٹ کر ان کا مثلہ کر دینا دور جاہلیت کی جنگوں کے بدترین مظاہر ے تھے۔ پھر ان جنگوں کے واقعات عرب شعراء کے خطبات و دواوین کی زینت بنتے تو لوگ ان پر وارفتہ ہو جاتے۔ انھی لوگوں کی موجودگی میں سید الانبیاءصلی اللہ علیہ و سلم نے نہ صرف ان کے جنگی نقطہ نظر کو بدلا بلکہ مقصد جنگ کو دشمنوں کی ہلاکت کے بجائے شر کے خاتمے تک محدود کردیا اور میدان جنگ میں اس کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔ جہاد اور جنگ میں یہی واضح امتیاز تھا، یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت انقلاب تھی، جس کی تیاری تیرہ سالہ مکی دور میں کی گئی۔

انسان ہمیشہ سے اپنی سیاسی، سماجی اور معاشی اقدار کی بنیادیں بھی مذہب سے ہی تلاش کرتا چلا آیا ہے۔ گردش ایام نے بعض صحائف کو صفحہ ہستی سے نابود کر دیا اور بعض مذاہب نے جدت اور حالات زمانہ کے ساتھ تطبیق پیدا کرتے ہوئے اپنا وجود برقرار رکھا۔ آج کرہ ارضی پر بسنے والا ہر شخص کسی نہ کسی مذہبی فکر اور نظریے کا حامل ہے۔ وہ اسے اپنا ایمان قرار دیتا ہے خواہ اس کی وابستگی واجبی اور ظاہری ہی کیوں نہ ہو۔

ایک مذہبی انسان اپنے خدا، رسول اور صحائف کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی دنیا و آخرت کی کامیابی سمیٹتا ہے۔ کسی بھی مذہب کے پیرو کاروں کا تجزیہ کیا جائے تو یہی کیفیت نظر آتی ہے۔ معاشرے کا ہر فرد اعلی اخلاقی ومذہبی اقدار پر عمل پیرا ہو کر ترقی کی راہ پر رواں دواں رہنے کاخواہاں ہے۔ جبکہ دوسری جانب اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہی مذہب جو معاشرے کی تشکیل میں بہت اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہاں یہ انسانوں کی تقسیم کا بھی باعث بن جاتا ہے جسے امتیاز حق و باطل کا نام دیا جاتا ہے۔

انسانی تجربوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ لادینیت انسان کو اخلاقی حیثیت سے تباہ کر دیتی ہے اور مادی وسائل میں فلاح و خوشحالی کے لیے جو توازن درکا رہے، وہ برقرار نہیں رہتا۔ نتیجتاً مادی وسائل میں ترقی بھی انسانی خیر و فلاح کا باعث نہیں بن سکتی۔ جب ریاست اپنے مقاصد کے لیے مذہب کو استعمال کرتی ہے تو اس کے نتیجے میں جبر و تشدد فروغ پاتا ہے اور عدم برداشت، بغض و عناد ایسی وبائیں جنم لیتی ہیں جس سے رواداری اور احترام انسانیت مفقود ہو جاتی ہے۔ طبقاتی مفادات، متنازع عقائد و نظریات اور معاشرے میں انتشار برپا ہوجاتا ہے۔ اقتدار کی ہوس ناکی کا جنون اسے مذہبی تشدد پسندی کی راہ پر چلنے پر مجبور کردیتا ہے اور نظام دنیا کو بےہنگم اور سفاک بنا دیتا ہے۔ معاشرہ میں جارحیت و مفاد پرستی، جنگوں، دفاع کے نام پر افواج کشی، انسانیت کی بےدریغ خونریزی، تہذیبی تصادم، شدت پسند ی ایسے انسانی المیے جنم لیتے ہیں جو روح و جسم کی ہم آہنگی کو تار تار کرکے دنیا کے نظام کو تاراج کر دیتے ہیں۔

بنظر غائر مذاہب عالم کا تجزیاتی مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ تمام مذاہب کی بنیادی سچائیاں ایک ہیں جو انسانوں کے دلوں کو جوڑتی ہیں اور اخوت کے پھول بکھیرتی ہیں۔ ادیانِ عالم میں مذاہب ثلاثہ ہی چونکہ زندہ مذاہب ہیں، لہٰذا ان کو دیکھیں تو ان میں امن و آشتی اور جنگی تعلیمات بھی بدرجہ اتم ہیں۔ دنیا کے بڑے مذاہب میں انھی تین مذاہب (اسلام، یہودیت اور عیسائیت) کا شمار ہوتا ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ آپس میں خون کی بڑی بڑی ہولیاں بھی انہی ادیان کے ماننے والوں نے کھیلی ہیں۔ مختلف طبقات میں مذہبی کشمکش صدیوں سے چلی آ رہی ہے جو آج بھی جاری ہے، تاہم افسوس ناک امر یہ ہے کہ تشدد کو عموماً جذبات سے منسلک کر دیا جاتا ہے۔ تاہم بعض اوقات وہ معاشرے جن کے درمیان عقائد کی بنیاد پر کشیدگی پائی جاتی ہے، ان کی باگ ڈور بعض متشدد افراد کے ہاتھوں میں آ جاتی ہے جس سے پرامن مکالمے اور مہذب رویے کی جگہ قتل و غارت لے لیتی ہے اور اکثریتی طبقہ جو علمی موشگافیوں سے ذرا بھی واقف نہیں ہوتا، اسے نفرت وتعصب کی بنیاد بنا لیتا ہے۔ مذاہب کے نام لیوا رجعت پسند فرقہ وارانہ کشیدگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

تہذیبِ نو کی تمام تر ترقیوں کے باوجود عقیدہ، رنگ ونسل، لسانی و علاقائی امتیازات ایسی بیماریوں نے پوری دنیا کو میدان جنگ میں بدل دیا ہے۔ امن کے نام پر اقوام عالم کو زیرنگیں کرنے کے لیے سازشوں کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے۔ ایک دائمی بےاطمینانی ہے جو ہم پر مسلط ہے۔ فسادات و انقلابات اور باہمی کشمکشوں نے دنیا کا سکون غارت کر دیا ہے۔ ان حالات کے باعث مذاہب کے درمیان جہاں تشدد فروغ پا رہا ہے، وہاں تہذیبی و ثقافتی جنگ کی صورت بھی پیدا ہوتی جا رہی ہے، جس کے ذمہ دار حکمرانوں کے ساتھ ساتھ مذاہب ثلاثہ کے مذہبی رہنما بھی ہیں، جنھیں دائمی امن کے قیام کے لیے ایک بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے تھا کیونکہ اس دنیا میں مذہب کی طاقت کے کچھ پہلو ایسے بھی ہیں جن کے انحطاط کا کوئی امکان نہیں ہے۔

اس پس منظر میں یہ بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ مذاہب عالم کے درمیان مصالحت اور امن کا فروغ اس وقت انسانیت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ خصوصاگیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے حادثہ نے مغربی ذرائع ابلاغ کو اسلام اور اہل اسلام کے خلاف ایک ایسا موقع فراہم کیا ہے کہ تاحال وہ اس تصور کو ہوا دے رہے ہیں کہ اسلام جنگ اور تشدد کا نام ہے۔ یہ جنگ و جدال کا دین ہے، اپنے پیروکاروں کو تشدد اور دہشت گردی کی دعوت دیتا ہے۔ یہ پراپیگنڈہ تاحال جاری ہے اور اس کے منفی اثرات کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے۔ امن کی اصطلاح کا تعلق انفرادی سطح پر ’تحفظ‘ یا سلامتی کے ساتھ زندگی گزارنا اور ایک ایسا ماحول تشکیل دینا ہے جس کے ذریعے سے اقوام عالم ایک دوسرے سے پر امن بقائے باہمی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ یہی رویہ اللہ تعالی کے ساتھ درست تعلق کی بنیاد ہو سکتا ہے۔

مذہب کی رُو سے امن کا مطلب جنگ سے کنارہ کشی اور امن و سلامتی میں رہتے ہوئے معاشرتی تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔ یہودیوں کے ہاں امن و سلامتی کے لیے شالوم کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ عہد نامہ قدیم کی عبرانی و آرامی زبانوں میں اس لفظ کے بنیادی معنی ’سلامتی، تحفظ، صحت اور فلاح ‘ بیان کیے گئے ہیں۔ اس کا تعلق ایک ایسے انسانی معاشرے کی دنیا سے ہوتا ہے جہاں اتحاد، بھائی چارہ اور خوشیاں وافر ہوں۔ اسرائیلی اس لفظ کو مجموعی طور پر مادی اور روحانی کیفیت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اسرائیلوں کا ’امن‘ ایک سماجی نظریہ تھا جو اقوام کے باہمی تعلقات کی عکاسی کرتا تھا۔ اسلام میں بھی سلام کا مطلب امن و سلامتی ہے جس میں آزادی اور حفاظت کا مفہوم شامل ہے۔ امن وسکون کے لیے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ ایک اور لفظ ’صلاح ‘ ہے جو ’فساد‘ کے متضاد کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور راہِ صواب، صراطِ مستقیم، اچھائی اور خیرِ کثیر کے لیے بھی مستعمل ہے۔ اقوام عالم میں ’امن‘ کے لیے عربی اصطلاح ’صلاح‘ رائج ہے۔’ صلاح‘ کے لغوی معنی کسی چیز کو اس کے درست مقام پر رکھنا یا چیزوں کو عمدہ اور مکمل بنانا ہے۔ کسی جھگڑے میں’صلاح‘کا مطلب دونوں متحارب گروہوں کے مابین صلح اور اصلاح ہوگا۔

کتب سماویہ کے حامل مذاہب کے مابین مذکورہ امور پر باہمی تبادلہ خیال یا مکالمے کی ممکنہ صورت کے لیے قرآن مجید میں واضح احکام ملتے ہیں۔ یہود اور نصاری یعنی اہل کتاب کو قرآن مجید نے دعوت دی ہے کہ آﺅ اور توحید کے مشترک نکتے پر باہمی اتحاد کی بنیاد استوار کرو۔ قرآن مجید اس حقیقت کا انکشاف کرتا ہے کہ اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بہت اچھے‘ منصف مزاج اور راست باز ہیں۔ کچھ ایسے بھی ہیں جنھیں اسلام کا پیغام اپنی صحیح شکل میں پہنچ جائے تو وہ اسے قبول کر لیں گے۔ اسی طرح قرآن مجید نے مسلمان مردوں کے لیے یہود و نصاری کی عورتوں سے نکاح کو جائز قرار دیا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ ایسی شادی تبھی کامیاب ہو سکتی ہے جب مسلمان مرد اور یہودی یا مسیحی عورت میں محبت کا تعلق استوار ہو۔ اسی طرح قرآن مجید یہودیوں اور مسیحیوں کے طعام کو بھی مسلمانوں کے لیے جائز قرار دیتا ہے۔

عقیدہ آخرت، دنیا کی بےثباتی، عالمی امن وامان ،حرمت زنا، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، حریت فکر و عمل اور تحریر و تقریر، عقائد میں جبر و اکراہ سے اجتناب، مقدسات کی توہین سے گریز، اصلاح ایمانیات اور انسانیت سے پیار مذاہبِ ثلاثہ کے مشترکات ہیں۔ زیغ و ضلال کی پیروی یہود و نصاری کے لیے بھی باطل پرستی کے مترادف ہے۔ اب صرف دنیا میں ایک ہی دین اور ایک ہی تہذیب جو تکمیلی اور فطری ہو وہی انجام کی طرف گامز ن ہو سکتی ہے۔ جو مذہبی اتحاد کے مشترکہ قابل عمل نکات پر مشتمل ہے، جو صرف اور صرف انسانیت کی عظمت کا دین ہے، جس کی تہذیبی اقدار آفاقی ہیں، جو مذاہب کے درمیان ارتباط ہے اور فساد و تشدد سے احتراز ہے۔ اور سوائے اسلام کے ان اوصاف حسنہ کا حامل دین دنیا میں اور کون سا ہو سکتا ہے۔ اور یقینا انہی رہنما اصولوں کی بنا پر مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں جن سے یہ معاشرہ جنت کا نمونہ اور خلافت و نیابت الہیہ کا حقیقی منظر پیش کرسکتا ہے۔

مذاہب ثلاثہ کی تعلیمات کا اجمالی جائزہ لیں تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ کائنات کے اسرار و رموز سے صرف خالق کائنات ہی اچھی طرح واقف ہے جس نے دنیا کو پرامن بنانے کی تعلیمات سے اپنے برگزیدہ پیغمبروں کے ذریعے مخلوق کو ہدایات دی ہیں۔ جبکہ مخلوق کے بنائے ہوئے قوانین و دساتیر کائنات کی اس گاڑی کو صحیح طور پر چلانے کا فریضہ انجام نہیں دے سکتے۔ چنانچہ ان مذاہب کے تصورات امن و جنگ اور ان کے پیروکاروں کے باہمی مصالحانہ و متشددانہ رویوں کا مطالعہ ازحد ضروری ہو چکا ہے۔ یہودیت، عیسائیت اور اسلام کے پیروکار تاریخ عالم میں امن و جنگ کے مختلف ادوار سے گزرتے ہوئے عصر حاضر میں بھی آپس میں کسی نہ کسی صورت میں برسر پیکار ہیں۔\n\nسلاطین بنی اسرائیل کی عالمی سلطنت تاریخ عالم کا ایک زریں باب ہے با لخصوص حضرت داﺅد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کے سنہری ادوار جنہیں قرآن پاک خراج تحسین پیش کرتا ہے، اور یہی مقام تاریخ میں اہل کلیسا کی سلطنت روما کو حاصل تھا۔

مذاہب ثلاثہ کی مشترکہ مذہبی و دینی اقدار اور نظریات کی بنیاد پر نو ع انساں کی بقا کے لیے پیش آنے والے ممکنہ خطرات کے خلاف مشترکہ جدوجہد اور حکمت عملی اپنائی جاسکتی ہے تاکہ باہمی روابط کی مضبوطی کے لیے ایسے اہداف پر جن کے مطابق عداوت کے بجائے مفاہمت، امتیاز و تفریق کے بجائے مساوات، لا تعلقی کے بجائے باہمی تعلقات اور محاذ آرائی کے بجائے تعاون کا فروغ یقینی بنایا جاسکے۔ مذاہب ثلاثہ کے پیروان پر انسانیت کے حوالے سے بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان مذاہب کے پیروکاروں کو اچھا شہری اور اچھا مسیحا بننے کی ترغیب دی گئی ہے۔ ان بنیادوں پر باہمی احترام اور محبت کی فضا فروغ پا سکتی ہے.

ڈاکٹر رانا تنویر قاسم

ڈاکٹر رانا تنویر قاسم انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کے اسلامک سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، مذاہب ثلاثہ میں امن اور جنگ کے تصورات کے موضوع پر پی ایچ ڈی کر رکھی ہے، تدریسی و صحافتی شعبوں سے برابر وابستہ ہیں، ایک ٹی وی چینل میں بطور اینکر بھی کام کررہے ہیں۔

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam