ہے کوئی ابراہیم اور اسماعیل کا چاہنے والا؟ زبیر منصوری

زبیر منصوری دل پر ہاتھ رکھ کر سچ بتائیے؟\nدنیا میں سب سے زیادہ پیار کس سے کرتے ہیں ؟\nبچوں سے؟\nماں باپ سے؟\nبیوی سے؟\nگھر سے؟\nاپنے وطن سے؟\nدوستوں سے؟\nاچھی آسودہ زندگی سے؟\nیا\nان سب سے؟\n\nاگر ان سب کو چھوڑ دینے کا کہا جائے تو؟\nمشکل، ناممکن، ناقابل برداشت، اذیت ناک،\nدرست!!\n\nکوئی تھا جس نے کسی کے پیار میں ان سب کو چھوڑ دیا!\nبڑھاپے میں قسمت اور دعاؤں سے نصیب ہونے والے پیارے بیٹے کی گردن پر محبوب کے کہنے پر چھری چلا دی!\nاسی پیارے کے اشارے پر خوبصورت اور وفا شعار بیوی اور معصوم بیٹے کو جنگل، بیابان ویرانے میں ایسے چھوڑ آیا گویا جانتا تک نہ ہو!\nاسی کے ایک اشارہ پر آبائو اجداد کی سرزمین، دوست، صدیوں کی رشتہ داریاں، تعلقات اور آسودہ زندگی کو لمحوں میں، پیارے کے بس ایک اشارے پر بےنیازی سے چھوڑ کر ہزاروں میل دور چلا آیا.\n\nایک ایسا شخص جس کو آگے پیچھے، دائیں بائیں، اندر باہر، اوپر نیچے اپنے پیارے کے سوا کچھ دکھتا ہی نہ تھا.\nیارو! بھلا بتاؤ،\nکہ ایسا انسان کیا پھر اس قابل نہ تھا کہ اسے اس کا محبوب امر نہ کر دیتا؟\nاسی لیے تو قرآن کہتا ہے انہ کان صادق الوعد و انہ کان صدیق نبیا،\nوہ تو محبت کے وعدے میں سچا نکلنے والا میرا سچا پیام بر تھا،\nاسی لیے اسے محبوب نے سچا سُچا پکا گہرا اور محبت میں ڈوبا دوست ”خلیل اللہ“ کہا،\nاسی لیے اس کی وفا کو مثال بنا کر امر کر دیا اور کہہ دیا کہ یہ پیمانہ ہے، یہ ہے حد میری محبت کے دعوی کو ثابت کر دکھانے کی،\n\nاور یارو! پیارا اللہ تو ہم سے ان میں سے کچھ بھی نہیں مانگ رہا!\nکوئی خواب دکھا کر کوئی مطالبہ نہیں کر رہا،\nذرا اپنے اکلوتے بیٹے کو گود میں بٹھا کر پیار سے اس کی گردن پر ہاتھ پھیرتے ہوئے لمحے بھر کو سوچو، یہاں اپنے ہاتھ سے چھری پھیرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا!\nکیا ہونا تھاگردن سے گرم خون کی دھار!\nجھرجھری آ گئی ناں؟\nدل مٹھی میں آگیا ناں؟\nمگر نہیں وہ آپ سے یہ نہیں مانگ رہا، کہتا ہے اس کا گلا نہیں بس اس پر موجود دماغ کو میرا فرمانبردار بنا دو،\nبس اسے پیار سے میرا پیارا بنانے کی کوشش کر دو، یہ میرا ہے اسے میرے دشمن کے کام آنے سے بچا لو،\nبس! اتنا سا ہی تو مطالبہ ہے؟\nکوئی ہے جو پیارے ابراہیم علیہ السلام کی ہلکی سی یاد تازہ کرنے کا فیصلہ کرے؟\n\nاپنے پیارے بچوں کو گود میں بٹھائے، محبت سے ان کے سر پر ہاتھ رکھے، ممکن ہو تو\n

انی وجھت وجھی للذی فطر السموات والارض

\n\nوالی قربانی کی دعا پڑ ھ لے اور پھر یہ دعا کرے کہ اے اللہ میں ان کی پیشانیوں کو تیری فرمانبردار پیشانیاں بنائوں گا.\nاے اللہ میں ان کے دماغوں کی ذہانتوں کو تیرے لیے استعمال کروانے کی کوشش کروں گا۔\nکوئی ہے؟\nہے کوئی ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام کا چاہنے والا؟

Comments

FB Login Required

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

Protected by WP Anti Spam