آہ ہم عوام ، واہ ہم عوام – نورین تبسم

میلہ مویشیاں سجا ہوا، قصاب چاقو چھریاں تیز کرکے سرگرم، معاشرتی جانور ذوق و شوق سے کھنکھناتی بیڑیاں پہنے، ریشمی پٹے حمائل کیے جوق درجوق ایک بار پھر قربانی کے لیے تیار۔ روزِ روشن کا یہ کڑوا سچ دکھائی دیتے ہوئے بھی دکھائی کیوں نہیں دے رہا۔ سب دروازے، کھڑکیاں بےخبری کی میخیں گاڑ کر بند بھی کر دیے، پھر بھی کسی نہ کسی درز سے حالات کی سنگینی کی لُو کیوں جُھلسائے دے رہی ہے۔\n\nاپنی زندگی کے گودام میں ذخیرہ کی ہوئی آرام وآسائش، عقل و شعور اور آسودگی کی بوریوں کے ڈھیر کیوں طمانیت سے محروم رکھے ہوئے ہیں۔ وہ نیرو کی روح کیوں نہیں جاگتی جو روم جلنے پر چین کی بانسری بجاتی تھی کہ یہی آج کے دور کا چلن ہے۔ ہم خود ساختہ پڑھے لکھے لوگ کیوں تماش بین نہیں بن جاتے۔ ہم تو اپنی ٹھنڈی چھت تلے بھرے پیٹ سونے والے لوگ ہیں۔ ہمیں کیا غرض کون آئے کون جائے۔\n\nقصور ہمارا نہیں صرف آنکھ کُھلنے کا ہے کہ آنکھـ کُھل جائےتو نیند غائب ہو جاتی ہے۔ اور نیند نہ آئے توغفلت کے خواب بھی نہیں آتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم خاص ہوتے ہوئے بھی خود کو خاص نہیں جان رہے۔ گردش کا پہیہ جب چلتا ہے تواُس کی زد میں خاص وعام سب برابرآتے ہیں. ہم صرف عوام ہیں، چھوٹے چھوٹے لوگ۔ ایک دوسرے سے وابستہ جن کی چھوٹی چھوٹی ضرورتیں اور خواہشیں ہیں۔ جو پوری ہونے لگیں تو اپنے جیسوں کے ساتھ بانٹ لیتے ہیں۔ بڑے لوگ ہمیں کٹھ پُتلیاں جان کر اپنے اشاروں پر نچاتے ہیں۔ تماشا دکھا کرمال بٹورتے ہیں۔ یہ تماش بین ہمیں ایک عام طوائف جتنی اہمیت بھی نہیں دیتے۔ اُس پر نوٹ نچھاور کرکے اپنے بھرم کا فاصلہ رکھ کرگھرتو چلے جاتے ہیں۔ لیکن ہم عام عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کھسوٹ کر، عزتِ نفس اور فہم کے چیتھڑے اُڑا کر، سرِ بازار رُسوا کر کے، پھردانت تیز کر کے وہیں بیٹھ رہتے ہیں۔ اور ہم ہمیشہ ایک ہدایت یافتہ طوائف کی طرح سنورتے ہیں کہ شاید آنے والا تماش بین نہیں کوئی مسیحا ہو۔ جس کی جھولی میں سفلی خواہشوں کے کیکر نہیں بلکہ ماں کی گود کا سا خمار مل جائے جو کچھ پل کو گردش ِآلام بھلا دے۔\n\nیہ تماشا کب تک جاری رہے گا؟ کوئی نہیں کوئی بھی تو نہیں. نہیں نااُمیدی کفر ہے، مایوسی موت ہے اور مرنے سے پہلے مرجانا صریح خودکشی ہے۔ حالات کی سنگینی اگر جھانک رہی ہے تو کہیں سے خفیف سی روشنی کی جھلک بھی نظر آرہی ہے۔ اللہ نااُمیدی کی عینک سے بچائے جو اگر لگ جائے تو ہر منظر دُھندلا دیتی ہے۔ آخری وقت تک اپنے آپ پر یقین رکھیں۔ دروازے اگر بند ہوتے جا رہے ہیں تو یہیں کہیں اُن کے کھلنے کی نوید بھی مل رہی ہے۔ لوٹنے والے کہاں تک لوٹیں گے۔ ایمان باقی رہے۔ ہمت ہو تو سفر کٹ ہی جاتا ہے- نیت کا پھل ملتا ہے۔ اعمال کا پھل کیا ملے یہ رب جانے۔

Comments

FB Login Required

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

Protected by WP Anti Spam