لفظ اور کتاب سے دوستی - نورین تبسم

”ن اور قلم کی اور جو (اہل ِقلم) لکھتے ہیں اس کی قسم“ (سورہ القلم (68) آیت 1)\n\nلفظ اچھے لگتے تھے، لفظوں سے دوستی ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ دوستی محبت میں بدل گئی، محبت نے اپنی جہت یوں تبدیل کی کہ ایک رشتے میں اپنے آپ کو سمو لیا اور پھر ”میں اورتم“. اب یہ حال ہے کہ ہر گزرتا پل لفظ میں سما جائے اور ہاتھ قلم بن جائیں. بےشک یہ اللہ کا کرم ہے. سوچ کی چمک انسانوں کے قریب لائی، سوچ لفظوں میں ڈھلی تو لفظ کتابوں تک لے گئے اور پھر انسان اور کتاب ایک ہو گئے۔ ہرانسان کتاب اور ہر کتاب دوست بنتی چلی گئی، وقت گزرا تو احساس جاگا کہ انسان کتاب کا عنوان ہے تو کتاب بھی تو انسانوں کی طرف واپسی کا سندیسہ ہے، پھر کتاب کے ساتھ انسانوں کو پڑھنا شروع کیا تومحسوس ہوا کہ ایک زندہ کتاب ہی کسی زندہ کتاب کو بہتر طور پر سمجھ سکتی ہے۔\n\nعلم کتاب میں نہیں زندگی میں ہے۔ کتاب بس علم کی تلاش میں مدد دیتی ہے۔ کاغذ کی خوشبو میں لفظ محسوس کرنے والے نہیں جانتے کہ انسان سے زیادہ قیمتی کتاب اور کوئی نہیں۔ لیکن اس قیمت کو دینے کی اہلیت بھی ہر کسی کا نصیب نہیں۔ کبھی تو یہ زندگی کی تپتی دھوپ میں اپنا رنگ و روپ اجاڑتی، کوڑیوں کے مول، پرانی کتابوں کے ڈھیر کے ساتھ، چھٹی والے روز، خاموش، چپ چاپ، کسی کونے میں بےجان پڑی ملتی ہے تو کبھی کسی عالیشان گھر کے بیش قیمت کتابوں کے ریک میں سب سے اونچی جگہ دکھتی ہے۔ دل اس کے سرورق کی خوشبو اور رنگ کی رعنائی دیکھ کر چھونے کے لیے عقل کے ہاتھ چھڑا کر ایک ضدی بچے کی طرح بےدھڑک مچلتا ہے۔\n\nاللہ کی پاک کتاب کی طرح انسان کی کھری کتاب بھی صرف اس کی دسترس میں آتی ہے جو احساس کی پاکیزگی سے مہکتا ہے تو غرض اور تعصب کے کھوٹ اور ”شک“ کی ملاوٹ سے پاک بھی ہوتا ہے۔ سچ کی تلاش، اپنے آپ کی تلاش کا محور اور رہنما اگر اللہ کی کتاب ہے تو اس کا سرا زمین سے ملتا ہے، اپنے آپ سے ملتا ہے، اپنے جیسے انسان سے ملتا ہے، اور پھر مور کی طرح اپنے پاؤں کی جانب دیکھ کر افسردہ بھی ہو جاتا ہے۔\n\nلفظ اور کتاب سے دوستی رکھنے والے اس تلخ حقیقت کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ اپنے اظہار کو لفظ کی صورت صرف اپنے پاس ہی محفوظ کیا جاسکتا ہے اور وہ بھی اپنی عمر کے محدود حصار کے اندر۔ ہمارے جانے کے بعد تو سب ردی میں چلا جاتا ہے۔ کتاب کی صورت اپنے لفظ محفوظ کرنے کی خواہش تو ہر لکھاری کے دل میں رہتی ہے لیکن کتاب کی چھپائی کے اخراجات عام آدمی کے بس کی بات نہیں. کسی طرح یہ مرحلہ طے بھی ہو جائے تو کتاب کی پذیرائی بھی ہر کسی کا نصیب نہیں. کتابوں کے بنڈل کتابوں کی دکانوں پر گرد آلود ہوتے تو کبھی گھرکے سٹور روم میں ان چھوئے، اُسی طرح بندھے رہ جاتے ہیں۔ کسی کے لکھے لفظ پڑھنا اگر ذوق کی علامت ہے تو ایک ایسا شوق بھی ہے جس کی قیمت یا تو جیب سے ادا کرنا پڑتی ہے یا پھر وقت سے۔ آج کل کے تیزی سے بدلتے دور میں لفظ تو وہیں موجود ہے لیکن اُنہیں پڑھنے کی اقدار بدل گئی ہیں۔ اب ہمارے پاس اپنے شوق اور ذوق کی تسکین کے لیے نہ جیب میں گنجائش ہے اور نہ ہی وقت اجازت دیتا ہے۔ ضروریاتِ زندگی سے سمجھوتہ کرتے کرتے اور وقت سے بچتے بچاتے اگر اپنے شوق و ذوق کے لیے کچھ مہلت حاصل بھی ہو جائے تو وقت کی چوری سے مکمل تسکین پھر بھی نہیں ملتی۔\n\nہر وہ چیز جو ہمارے راستے میں آئے اس کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے جو نہ دینے والا جانتا ہے اور نہ پانے والا۔ جیسے ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے اسی طرح ہر لفظ کے سمجھنے کا بھی ایک وقت ہوتا ہے۔ زندگی میں ہم بےشمار لوگوں سے ملتے ہیں، بےشمار لفظ ہزار بار پڑھتے ہیں لیکن کبھی وہی شخص کچھ نیا دے جاتا ہے اور وہی لفظ پہلی بار سمجھ آتا ہے جسے یاد کر کے بھی بھول چکے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ اثر کب ہوتا ہے؟ کیسے ہوتا ہے؟ کیوں ہوتا ہے؟ ہم نہیں جانتے اور یہ بھی نہیں کہ دل سے جو بات نکلے وہ کب؟ اور کس کے دل کو چھو جائے؟ اور کس کے لیے لکھی؟ یہ بھی ایک عجیب راز ہے۔ شخصیت اہم نہیں خیال کی خیال تک رسائی اہم ہے۔ کسی انسان کو آئیڈیل بنانا ہمیشہ دکھ تکلیف کا باعث بنتا ہے کہ مکمل کوئی بھی نہیں ہوتا۔ ہمارے پسندیدہ شاعر، لکھاری اور ہر وہ شخص جس کا کوئی ایک حرف ہی ہمارے دل کی زبان سمجھ جائے، سب اسی زمرے میں آتے ہیں۔\n\nجس طرح کہی سے زیادہ ان کہی غور کرنے اور محسوس کرنے کے لائق ہے جیسے لفظ پڑھتے ہوئے اس کی اہمیت سے انکار قطعی نہیں لیکن سطروں میں چھپے مفہوم جنہیں عام زبان میں ”ان بٹ وین دی لائن“ کہا جاتا ہے، اپنی جگہ بہت خاص ہوتے ہیں۔ ہمارے لیے نہ صرف نشان منزل ثابت ہوتے ہیں بلکہ ہمیں اپنی ذات کی آگاہی اور اس پر اعتماد بھی دیتے ہیں۔ دنیا میں سانس لینے کے بعد ہمارا ایک ایک عمل ایک ایک رشتہ ایک ایک تعلق ہمارے لیے ہر گھڑی ایک نیا سبق عطا کرتا ہے۔ بات صرف غور کرنے کی ہے۔ کتاب مقدس کی تلاوت ہو یا انسانوں کے مابین رہ کر انہیں جانا جانا جائے جب تک پڑھنے سے زیادہ اُن پر ”تفکر“ نہیں کیا جائے گا کبھی بھی ”روح“ تک آشنائی کی لذت حاصل نہ ہو سکے گی۔ بنا سمجھے بنا جانے محض تعظیم وتکریم کے بوسے دے کر ”جسم“ کودنیا وآخرت سنوارنے کی خوش خبری تو مل سکتی ہے لیکن قربت کی لذت کی آسودگی کبھی حاصل نہیں ہو سکتی۔ اللہ کی کتاب جس کا موضوع ”انسان“ ہے اور وہ آئی ہی انسان کی رہنمائی کے لیے ہے۔ اس میں انسان کی ہر الجھن کا جواب موجود ہے۔ کتاب مقدس کو پڑھتے ہوئے کہیں سے بھی دیکھیں تو رب بار بار کہتا ہے ۔۔”تم غور کیوں نہیں کرتے۔۔۔۔ تم سوچتے کیوں نہیں“ الواقعہ، آیت 61،62۔ جس روز قران پاک محض پڑھنے کے بجائے ہمارے اندر جذب ہونے لگ جائےگا مسئلے اسی وقت حل ہونے لگیں گے۔\n\nعلم کی وسعت کے سامنے گنتی کے چند سالوں کی زندگی تو بہت ہی کم ہے۔ بس کمپیوٹرکے ہوم پیج کی طرح جو سامنےآئے اسے دیکھتے رہیں اور آگے بڑھتے رہیں۔ علم نافع تو بس کتاب اللہ ہی ہے۔ لیکن انسان کے لفظ کو محسوس کرنا اور اپنی زندگی میں تبدیلی لانا بھی عین حق ہے۔ کسی بھی قاری کی آنکھ سے پڑھا سکتا ہے لیکن اُس کے دل کی آنکھ سے محسوس نہیں کیا جاسکتا۔ ہر پڑھنے والا اپنے ظرف کی نگاہ سے لفظ کے اندر معنوں کے گہر تلاش کرتا ہے۔ وہ تحریر جس میں زندگی کے احساسات کی ترجمانی ہوتی ہو جب تک جذب نہ ہو سمجھی نہیں جا سکتی۔ اور جذب کرنا ہر ایک کے اختیار میں ہے اور نہ ہی ظرف میں۔\n\nیاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ہمیں ٹیپ ریکارڈر نہیں بننا کیونکہ ہم تو بنے بنائے سپر کمپیوٹرز ہیں جن میں سب کچھ محفوظ ہو رہا ہے۔ کسی اور کے لیے نہیں بلکہ خود ہمارے لیے۔ نہ صرف آڈیو بلکہ ویڈیو بھی۔ ہمارے اعضائےجسمانی سے لے کر ذہن کے چھپے گوشوں تک کے افعال وکردار سب نہ ختم ہونے والی ہارڈ ڈرائیو میں بڑی چابک دستی سے من وعن محفوظ کیے جارہے ہیں۔ اللہ ہمیں اپنے لیے بہترین زاد راہ ساتھ لے جانے کی توفیق عطا فرمائے اور سوچ سمجھ کی دولت سے مالامال کرے۔ آمین\nآخری بات !\n لفظوں سے دوستی کرو، وہ تمہیں اپنے دوستوں سے ملا دیں گے۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں